ابنا: ہیومن رائٹس واچ نے اپنے ایک بیان میں شام کے مسلح گروہوں کے وسیع جرائم کے دائرے میں شام کے علوی نشین علاقوں کے باشندوں کے بہیمانہ قتل عام سے پردہ اٹھایا ہے۔ العالم کی رپورٹ کے مطابق ہیومن رائٹ واچ نے اپنے بیان میں کہ جو آج بروز جمعہ شائع ہوا میں اگست کے مہینے سے لیکر اب تک شام کے مسلح دھشتگرد گروہوں کے ہاتھوں 190 شامی باشندوں کے قتل کہ جن میں سے سڑسٹھ افراد کو پھانسی دی گئی تھی اور اسی طرح شام کے علوی نشین علاقوں کے 200 کے قریب افراد کے لاپتہ ہونے کی خبر دی ہے۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ اس تعداد میں 57 خواتین اور 18 بچے بھی شامل ہیں اور ہیومن رائٹ واچ نے اپنی بیان میں قتل و لاپتہ ہونے والے افراد کے ناموں کی فہرست بھی پیش کی ہے۔ اس بیان میں آیا ہے کہ اس وحشیانہ کاروائی میں دس سے زیادہ مسلح گروہوں نے شرکت کی تھی ، لیکن شام کی سیکورٹی فورسز نے ان علاقوں پر جوابی کاروائی کرتے ہوئے ، 18 اگست کو یہ علاقے دھشتگردوں سے خالی کرلیئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲تفصیلی رپورٹ ملاحظہ کریں:دہشت گردوں نے لاذقیہ میں بچوں اورخواتین سمیت 190 دیہاتیوں کو قتل اور 200 کو اغوا کیا
10 اکتوبر 2013 - 20:30
News ID: 471424
ہیومن رائٹس واچ نے اپنے ایک بیان میں شام کے مسلح گروہوں کے وسیع جرائم کے دائرے میں شام کے علوی نشین علاقوں کے باشندوں کے بہیمانہ قتل عام سے پردہ اٹھایا ہے۔