7 اکتوبر 2013 - 20:30
جنیوا-2 میں ایران کی شرکت ضروری ہے : اخضر ابراہیمی

شام ميں اقوام متحدہ اور عرب ليگ کے نمائندے اخضرابراہيمي نے کہا ہے کہ جنيوا-2 کانفرنس ميں ايران کي شرکت ضروري ہے اور ايراني حکام جنيوا جانے ميں سنجيدہ ہيں ۔

ابنا: شام کے لئے اقوام متحدہ کے نمائندے اخضر ابراہيمي نے کہا ہے کہ شام کا بحران سياسي طريقے سے حل کرنے کا جائزہ لينے کے لئے ہونےوالي جنيوا -2 کانفرنس ممکن ہے نومبر ميں ہو اور اس ميں ايران کي شرکت ضروري ہے۔ اخضر ابراہيمي نے اس کانفرنس کے انعقاد کے امکان کے بارے ميں کہا کہ ابھي قطعي طور پر کچھ نہيں کہا جاسکتا ليکن ہم اس کانفرنس کو نومبر کے وسط تک کرنا چاہتے ہيں ۔
اخضر ابراہيمي نے کہا کہ بشار اسد کي حکومت اور شامي حکومت کے مخالفين کے اتحاد کو غير مشروط طور پر ان مذاکرات ميں حصہ لينا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ نہ تو بشار اسد اور نہ ہي ان کے مخالفين کوئي بھي يہ نہيں کہہ سکتا کہ وہ ايک دوسرے سے مذاکرات نہيں کريں گے البتہ روسي حکام کا کہنا ہے کہ بشار اسد مذاکرات کے لئے تيار ہيں ۔
واضح رہے کہ شامي حکومت نے اعلان کيا ہے کہ دہشت گردوں سے مذاکرات نہيں کرے گي اور مخالفين نے بھي کہا ہے کہ بشاراسد کي حکومت سے کنارہ کشي کي صورت ميں ہي وہ جنيوا-2 مذاکرات ميں شرکت کريں گے ۔ اخضر ابراہيمي نے کہا کہ ايسا کام کرنے کي ضرورت ہے کہ عالمي نگراني ميں شفاف اليکشن کا راستہ ہموار ہو اور شام کے عوام کو پوري آزادي کے ساتھ اپني تقدير کا فيصلہ خود کرنے کا موقع مل سکے۔

.......

/169