ابنا: محمد جواد ظریف نے تسنیم نیوز سے گفتگو میں اقوام متحدہ کے دورے کے نتائج، پانچ جمع ایک گروپ کے ساتھ مذاکرات اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سربراہی اجلاس میں صدر جناب حسن روحانی کی شرکت کے بارے میں کہا کہ یہ دورہ، دراصل ایک پرفراز و نشیب راستے کا آغاز ہے جس میں ایران کے تعلق سے دنیا کی نظر بدلنے اور ایران کے دشمنوں کے نظریات میں تبدیلی لانے کی کوشش ہے۔ محمد جواد ظریف نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سربراہی اجلاس کے موقع پر مسلسل صلاح و مشوروں سے عالمی معاملات میں سربلندی کے ساتھ تعمیری تعاون کی سطح پر پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مرحلے کو سرانجام تک پہنچانے کے لئے ہمت ، صبرو تحمل اور تنقیدوں کو برداشت کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ نے کہا کہ ایران نے عالمی سطح پر بڑا سخت اور سنگين کام شروع کیا ہے اور اسکے لئے ضروری ہےکہ صبر و متانت سے مذاکرات میں قوم کے حقوق کے حصول کی کوشش کی جائے۔ واضح رہے کہ وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اقوا متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سڑسٹھویں سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے نیویارک گئےتھے جو اب تہران واپس پہنچے ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ میں مختلف ملکوں کے حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔
.......
/169