ابنا: امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے ساتھ ملاقات کے بعد لاروف نے کہا کہ قرارداد میں شام کے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق امریکی اور روسی تجویز پر عمل درآمد کے لیے فوجی مداخلت کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
لاروف نے کہا کہ قرارداد کے مسودے میں ایسی کوئی تجویز نہیں ہے کہ جس کی بنیاد پر اقوام متحدہ کے چارٹر کے ساتوں مادے کے مطابق امن و استحکام کی بحالی کی غرض سے فوجی مداخلت کی بات کہی گئی ہو۔
امریکہ اور روس کے درمیان اس مسودے پر اتفاق سے شام کے معاملے پر اقوام متحدہ میں تقریباً ڈھائی برس سے جاری تعطل ختم ہوگیا ہے۔
اس اتفاق رائے کو امریکہ اور روس کی جانب سے طے کیے گئے اس معاہدے کے بعد ایک اور اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے جس کے تحت شام نے اپنے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کو 2014 کے آخر تک ختم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
اس سے قبل امریکہ اور روس کے درمیان اس قرارداد کے مسودے پر بہت سے اختلافات تھے۔ امریکہ جسے برطانیہ اور فرانس کی حمایت حاصل ہے قرارداد میں عسکری کارروائی کی دھمکی شامل کرنا چاہتا تھا لیکن روس اور چین اس کے شدید مخالف تھے۔
امریکی اور روسی حکام کے مطابق مجوزہ قرارداد پر جمعہ کی شام ووٹنگ ہو سکتی ہے اور منظوری کی صورت میں کیمیائی ہتھیاروں کے معائنہ کار شامی ذخیرے کے معائنے اور اسے تحویل میں لینے کا عمل شروع کر سکیں گے۔
.......
/169