17 ستمبر 2013 - 19:30
شام کے خلاف سعودی عرب کی سازشیں جاری ہیں

باخبر ذرائع نے کہا ہے کہ سعودي وزير خارجہ سعود الفيصل شامي حکومت کو گرانے کے اپنے منصوبے کے تحت کوشش کررہے ہيں کہ ترکي کے تعاون سے شام پر حملے کے لئے ايک عربي اتحاد تشکيل ديں کيونکہ آج سعودي عرب کاسب سے اہم مسئلہ شام کي موجودہ حکومت کو گرانا ہے اور يہ ايسي حالت ميں ہے کہ شامي فوج نے دہشت گردوں کے خلاف اپنے آپريشن ميں اہم اور شاندار کاميابياں حاصل کي ہيں ۔

ابنا: خبروں کے مطابق سعودي عرب کے وزير خارجہ نے امريکا کو پيشکش کي ہے کہ اگر شام کي حکومت کو کيميائي ہتھياروں کے استعمال کا ذمہ دار قراردينے کے لئے عالمي تحقيقاتي ٹيم پر وہ دباؤ ڈالتا ہے تو سعودي عرب اس کےعوض تيل کي قيمتوں ميں زبردست کمي کردے گا  ۔سعودي وزير خارجہ نے اپنے امريکي ہم منصب سے کہا ہے کہ شام پر حملے کا امکان ختم ہونے کي صورت ميں امريکا سلامتي کونسل پر دباؤ ڈالے کہ وہ شام کو اقوام متحدہ کے منشور سات کا پابند قراردے اور اس ملک پر اقتصادي پابندياں سخت کي جائيں ۔ خبروں کے مطابق سعودي وزير خارجہ کا کہنا ہے کہ سعودي عرب شام کي موجودہ حکومت کو ہرگزقبول نہيں کرے گا اور وہ اس کي سرنگوني ہي چاہتا ہے اور اگر وہ دمشق حکومت گرانے ميں ناکام رہا تو اس کو کمزور کرنے کي اپني کوششيں جاري رکھے گا اور شام ميں دہشت گردوں کو ہتھيارفراہم اور ان کي مالي مدد کرکے  شام کي موجودہ حکومت کي سرنگوني کا راستہ ہموار کرے گا ۔ سعودي عرب اور قطر شروع دن سے ہي شام ميں دہشت  گردوں کي اسلحہ جاتي اور مالي مدد کررہے ہيں ۔......./169