ابنا: خبروں کے مطابق سعودي عرب کے وزير خارجہ نے امريکا کو پيشکش کي ہے کہ اگر شام کي حکومت کو کيميائي ہتھياروں کے استعمال کا ذمہ دار قراردينے کے لئے عالمي تحقيقاتي ٹيم پر وہ دباؤ ڈالتا ہے تو سعودي عرب اس کےعوض تيل کي قيمتوں ميں زبردست کمي کردے گا ۔سعودي وزير خارجہ نے اپنے امريکي ہم منصب سے کہا ہے کہ شام پر حملے کا امکان ختم ہونے کي صورت ميں امريکا سلامتي کونسل پر دباؤ ڈالے کہ وہ شام کو اقوام متحدہ کے منشور سات کا پابند قراردے اور اس ملک پر اقتصادي پابندياں سخت کي جائيں ۔ خبروں کے مطابق سعودي وزير خارجہ کا کہنا ہے کہ سعودي عرب شام کي موجودہ حکومت کو ہرگزقبول نہيں کرے گا اور وہ اس کي سرنگوني ہي چاہتا ہے اور اگر وہ دمشق حکومت گرانے ميں ناکام رہا تو اس کو کمزور کرنے کي اپني کوششيں جاري رکھے گا اور شام ميں دہشت گردوں کو ہتھيارفراہم اور ان کي مالي مدد کرکے شام کي موجودہ حکومت کي سرنگوني کا راستہ ہموار کرے گا ۔ سعودي عرب اور قطر شروع دن سے ہي شام ميں دہشت گردوں کي اسلحہ جاتي اور مالي مدد کررہے ہيں ۔......./169
17 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 464433
باخبر ذرائع نے کہا ہے کہ سعودي وزير خارجہ سعود الفيصل شامي حکومت کو گرانے کے اپنے منصوبے کے تحت کوشش کررہے ہيں کہ ترکي کے تعاون سے شام پر حملے کے لئے ايک عربي اتحاد تشکيل ديں کيونکہ آج سعودي عرب کاسب سے اہم مسئلہ شام کي موجودہ حکومت کو گرانا ہے اور يہ ايسي حالت ميں ہے کہ شامي فوج نے دہشت گردوں کے خلاف اپنے آپريشن ميں اہم اور شاندار کاميابياں حاصل کي ہيں ۔