ابنا: سرگئي لاوروف نے پير کي شام يہ بيان اس وقت ديا جب فرانس، برطانيہ اور امريکا کے درميان يہ اتفاق رائے ہوا کہ اگر شام معينہ وقت کے اندر کيميائي ہتھيار بين الاقوامي نگراني ميں دينے ميں ناکام رہتا ہے تو اس کے خلاف اقوام متحدہ سے سخت قرارداد منظور کروائي جائے گي ـلاوروف نے ماسکو ميں نامہ نگاروں سے گفتگو ميں کہا کہ اگر کسي شخص کے لئے يہ بہت اہم ہے کہ بار بار دھمکياں ديتا رہے تو اسے يہ بھي سمجھنا چاہئے کہ ان دھمکيوں سے جنيوا ٹو کانفرنس کے انعقاد کے راستے مسدود ہو سکتے ہيں ـ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ سے فوري طور پر فوجي مداخلت کا مطالبہ شام کے کيميائي ہتھياروں کے بارے ميں ہونے والے اتفاق رائے کے سلسلے ميں درست ادراک کے فقدان کي علامت ہےـياد رہے کہ روس اور امريکا کے درميان ہونے والے اتفاق رائے کے مطابق شام کے کيميائي ہتھيار سن دو ہزار چودہ کے وسط تک عالمي نگراني ميں دے دئے جائيں گےـ شام کو ايک ہفتے کے اندر اپنے تمام کيميائي ہتھياروں کي تفصيلات معائنہ کاروں کو سونپ ديني ہے اور شام نے اسے قبول کر ليا ہے۔......./169
17 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 464411
روس کے وزير خارجہ سرگئي لاوروف نے ايک بار پھر خبردار کيا ہے کہ شام کے خلاف فوجي حملے کي دھمکياں اور اقوام متحدہ کي قرارداديں، بحران شام کے پرامن حل کي کوششوں کو خطرے ميں ڈال سکتي ہيں ـ