ابنا: سیاسی رہنماﺅں اور دفاعی تجزیہ نگاروں نے کہا ہے کہ طالبان نے وزیراعظم نواز شریف کی مذاکرات کی دعوت کو ہوا میں اڑا کر رکھ دیا ہے۔ طالبان نے مذاکرات کے آغاز سے قبل ہی انہیں سبوتاژ کر دیا ہے، انکے ساتھ ڈائیلاگ طاقت کے بغیر بے کار ہیں، معاملے کو قومی سلامتی کمیٹی کے سامنے رکھا جائے اور فوج سے کلیئرنس لینے کے بعد ڈائیلاگ کی طرف جانا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض احمد، سابق پارلیمانی لیڈر میجر (ر) ذوالفقار گوندل، معروف تجزیہ نگار جنرل (ر) نصیر اختر نے نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ راجہ ریاض اور ذوالفقار گوندل نے کہا کہ نواز شریف کو اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اگر ملک بچانا ہے تو انہیں طالبان سے تعلقات ختم کرنا ہوں گے اور طالبان اور پاکستان میں سے ایک کو چننا ہوگا۔ راجہ ریاض نے کہا کہ طالبان نے میاں نواز شریف کی طالبان نواز پالیسی کو خود ناکام بنا دیا ہے۔ طالبان سے مذاکرات کی بات طالبان نے خود ختم کر دی ہے اور آل پارٹیز کانفرنس مکمل ”بے کار“ کر دی گئی ہے۔ اگر ہم نے کمزوری دکھائی تو طالبان مزید حملے کریں گے۔ ذوالفقار گوندل نے کہا کہ جو طالبان لڑکیوں کی تعلیم کے مخالف، ٹی وی اور سکولوں کے مخالف ہیں، ان سے کیا مذاکرات کئے جائیں گے۔ یہ کونسا اسلام ہے جس کی طالبان ترویج چاہتے ہیں۔ اب نواز شریف کس سے مذاکرات کریں گے۔ طالبان جو کہتے ہیں ان پر عملدرآمد نہیں کرتے، ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ دریں اثناء جنرل (ر) نصیر اختر نے کہا ہے کہ جس طرح طالبان نے پاکستانی افسران کو شہید کیا اور اس کو قبول بھی کیا ہے یہ ناقابل قبول ہے۔ طالبان سے ڈائیلاگ ضرور کرنا چاہئیں مگر ایسے واقعات کا انہیں سخت جواب ملنا چاہئے۔ پاکستانی فوج کے افسران کو جس طرح شہید کیا گیا ہے اس کا سخت نوٹس لینا چاہئے۔ ہمیں طالبان سے نہ صرف احتجاج کرنا چاہئے بلکہ ان پر واضح کر دینا چاہئے کہ ان حالات میں مذاکرات نہیں ہوسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان سے پہلے 9 دفعہ مذاکرات کئے جا چکے ہیں مگر ایسے ہی واقعات کی وجہ سے کبھی کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔......./169
16 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 463866
سیاسی رہنماوں نے کہا کہ نواز شریف کو اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اگر ملک بچانا ہے تو انہیں طالبان سے تعلقات ختم کرنا ہوںگے اور طالبان اور پاکستان میں سے ایک کو چننا ہوگا۔ جنرل (ر) نصیر اختر نے کہا ہے کہ جس طرح طالبان نے پاکستانی افسران کو شہید کیا اور اسکو قبول بھی کیا ہے یہ ناقابل قبول ہے۔