15 ستمبر 2013 - 19:30
صبرا وشتیلا کی اکتیسویں برسی

اکتیس سال قبل آج ہی کے دن صیہونیوں نے صبرا وشتیلا ميں فلسطینیوں کے خون سے ہولی کھیلی تھی۔

ابنا: سولہ ستمبر انیس سو بیاسی صیہونیوں کے ہاتھوں بیسویں صدی کےسب سےزیادہ وحشیانہ قتل عام کی یاد دلاتا ہے جو لبنان میں فلسطینی مہاجرین کےکیمپ میں انجام پایا تھا۔
صبراوشتیلاکیمپ میں تین دنوں تک مظلوم فلسطینیوں کاقتل عام ہوتا رہا اور اس کےنتیجے میں بڑی تعداد میں مرد و خواتین بچے اور بوڑھےخاک وخون میں غلطاں ہوگئے۔
شہداء میں جنگ زدہ لبنان کے بھی کچہ شہری تھے۔
صبراوشتیلا کاقتل عام، انیس سوبیاسی میں بیروت پرصیہونی حکومت کےقبضے کےبعد انجام پایا۔ انیس سوبیاسی میں اس وقت کے صیہونی وزيرجنگ ایرول شیرون نے فوج کوحکم دیا کہ وہ سمیرجعجع اورایلی حبیقہ  کے زيرکمان لبنانی فلانجسٹوں کے ساتھ ملک کر صبرا و شتیلا مہاجھر کیمپ کو محاصرے میں لےکر اس پناہ گریں کیمپ کےتمام افراد کوقتل کردیں۔
اس فرمان کے بعد اسرائیلی فوج اور فلانجسٹ چھاپہ ماروں نے صبراوشتیلا کمیپ کامحاصرہ کرلیا اور بہت سے بےگناہ خواتین بچوں اوربوڑھوں کونہایت بےدردی سے قتل کردیا۔
اس وقت منظرعام پرآنےوالے اعداد وشمارکےمطابق تین ہزار پانچ سو سے پانچ ہزار افراد کاقتل عام کیا گیا۔قتل ہونےوالوں میں ایک سوچالیس جنگ زدہ لبنانی بھی تھے۔
صیہونی حکومت کےان جرائم کےبعد صیہونی وزیرجنگ ایریل شیرون کو رائےعامہ نے صبراوشتیلاکےجلاد کا لقب دیا۔
البتہ صبراوشتیلا صیہونی حکومت کا پہلا یا آخری قتل عام نہيں شمار ہوتا۔
رائےعامہ کو صبرا وشتیلا سے پہلے دیریاسین اور کفرقاسم میں فلسطینیوں کا وہ قتل عام بھی یاد ہے جو صیہونیوں نےنہایت بےدردی سےانجام دیاتھا۔
صبراوشتیلا کےجرائم کے بعد صیہونی حکومت کےجرائم کا سلسلہ جاری رہا اورقانا کےعلاقے میں نہتھے لبنانیوں کا اور جنین و رفح میں فلسطینوں کاقتل عام صیہونی حکومت کےجرائم کی ایک جھلک ہے۔
صبراوشتیلا کےقتل عام پر عالمی برادری کی خاموشی پررائےعامہ نےشدید ردعمل ظاہرکیا۔رائے عامہ کےزبردست احتجاج کےبعد مغربی قانون دانوں سمیت مختلف ملکوں کےوکیلوں پر مشتمل ایک بین الاقوامی کمیٹی تشکیل دی گئی ۔ اس کمیٹی نے تحقیقات کے بعد صبراوشتیلا کے قتل عام کا ذمہ دار صیہونی حکومت کوقراردیا اورعلان کیا کہ صبراوشتیلا کاقتل عام جنگی جرائم اور انسانیت دشمن کاروائی ہے جس میں کسی بھی حیثیت سے شامل شخص کو سزاملنی چاہئے۔ صیہونی حکومت اورلبنان میں اس کےایجنٹوں کوسزا دینے کےمطالبے کےباوجود عالمی برادری اورانسانی حقوق کی دعوےدار مغربی حکومتوں نے اس سلسلے میں کوئي اقدام نہيں کیا۔
صیہونی حکومت کےجرائم سےنمٹنے میں بین الاقوامی برادری کی سستی اور خاموشی نے اس حکومت کوفلسطین سمیت علاقے کی قوموں کےخلاف باربار جرائم کےارتکاب کے لئے مزید جری اورگستاخ بنادیا ہے ۔ لیکن صیہونی حکومت کےخلاف محاذ پرآگے آگے رہنےوالی حکومت شام کےخلاف سعودی عرب اورقطر کی حکومتوں کا صیہونی حکومت کےساتھ کھڑا ہونااورشام میں عدم استحکام پیداکرنا بھی کسی الميے سےکم نہيں ہے۔فلسطینیوں کےخلاف اورصیہونیوں کےحق میں مغربی محاذ کااتحاد توسمجھ میں آتا ہے لیکن اس اتحاد میں سعودی عرب اورقطرسمیت بعض عرب ملکوں کاشامل ہونا ہرمسلمان بلکہ ہرانصاف پسند انسان کےلئے قابل تامل ہے۔
علاقے میں سعودی عرب اور قطر جیسی حکومتوں کا موجودہ کردار علاقے کےممالک کےکمزور ہونے اورصیہونی حکومت کےمزیدگستاخ ہونےکا باعث بن رہا ہے۔
.......
/169