اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق خلیج فارس تعاون کونسل کی رکن ریاستوں کے نمائندوں نے (اتوار 15 ستمبر 2013 کو) سعودی دارالحکومت ریاض میں منعقدہ اجلاس میں حزب اللہ کے ان اراکین اور حامیوں کے تعاقب اور ان کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک نئی حکمت عملی وضع کی ہے۔ سیکورٹی معاملات میں تعاون کونسل کے نائب سیکریٹری جنرل "کرنل ہزاع مبارک الہاجری" نے کہا: کونسل کی رکن ریاستوں کی وزارت ہائے داخلہ کے نمائندوں نے اتوار کے اجلاس میں، حزب اللہ کے تجارتی اور مالیاتی امور "اور انسداد دہشت گردی!" کے لئے مقرر کردہ ٹیم کی تجاویز کو منظور کرلیا اور قرار پایا کہ یہ تجاویز آنے والے وزراء کے اجلاس کو بھی پیش کی جائیں گی۔ مذکورہ اہلکار نے کوئی اشارہ نہیں کیا کہ دنیا بھر میں دہشت گردی کے فروغ میں خلیج فارس تعاون کونسل کی رکن ریاستوں کا کردار، اسرائیل اور امریکہ کے برابر نہ ہو تو کم بھی نہیں ہے اور شام اور عراق نیز پاکستان اور بعض دوسرے ممالک میں تو ان کا رسوائی کی حدود بھی پارکرگیا ہے جبکہ حال ہی میں بندر بن سلطان نے روسی صدر سے علی الاعلان کہا ہے کہ اگر وہ شام میں سعودی موقف کی حمایت کرے تو سعودی عرب موسم سرما کے اولمپکس میں دہشت گردانہ حملے نہ ہونے کی ضمانت دینے کے لئے تیار ہے۔ بہر حال کرنل ہزاع نے کہا کہ ان تجاویز کا تعلق حزب اللہ کے حامیوں کے ویزوں اور اقامت اور مالی و تجارتی معاملات سے ہےاس سے قبل جولائی 2013 کے آغاز پر خلیج فارس تعاون کونسل کی وزارت ہائے داخلہ کا پہلا اجلاس رکن ریاستوں میں حزب اللہ کے مالیاتی اور تجارتی امور کی نگرانی کے لئے ایک ٹیم کی تشکیل کی غرض سے منعقد ہوا تھا جس کا مقصد عرب سرزمینوں اور مسلمانوں کے قبلہ اول مسجد الاقصی پر قابض صہیونی ریاست کی خوشنودی حاصل کرنے کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔ تاہم کویت کے نائب وزیر داخلہ "غازی العمر" نے کہا ہے کہ ان کا ملک رکن ممالک میں حزب اللہ کے مفادات کے خلاف کسی قسم کے اقدام کا حصہ نہیں ہے۔ العمر نے الشرق الاوسط کو انٹرویو دیتے ہوئے زور دیا کہ ان کا ملک سیکورٹی ٹیم کی تجاویز کی شکل و ترتیب کے خلاف ہے لیکن اس نے اپنی اس مخالفت کا اظہار نہیں کیا ہے۔ العمر نے کہا: خلیج فارس تعاون کونسل کی رکن ریاستیں شام کے خلاف ممکنہ فوجی افدام میں سیکورٹی حوالے سے شریک ہونگی کیونکہ ـ بقول ان کے ـ یہ ریاستیں امن و استحکام کے لئے کوشش کرتے ہیں اور اس اقدام میں ہر ریاست کی شرکت اس کے اپنے وسائل تک محدود ہوگی۔ العمر نے علاقے کی صورت حال کو نامناسب قرار دیا اور اعتراف کرتے ہوئے کہا: مشکل یہ ہے کہ ہم (خلیج فارس تعاون کونسل کی رکن ریاستیں) خطے کے طاقتور کھلاڑی نہیں ہیں اور ہم سے زيادہ طاقتور ملک ہمارے خطے میں موجود ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
15 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 463647
خلیج فارس تعاون کونسل کی رکن ریاستوں نے اسرائیل سے اپنی وفاداری کا عملی اظہار کرتے ہوئے ریاض کے اجلاس میں ان ریاستوں میں مقیم حزب اللہ سے وابستہ افراد کا مقابلہ کرنے کے لئے حکمت عملی منظور کی ہے / واضح رہے کہ سعودی عرب سمیت تمام رکن ممالک نے نہ صرف آج تک عرب سرزمینوں پر قابض اسرائیل کی مذمت میں کوئی موقف نہيں اپنایا ہے بلکہ ان ریاستوں کے حکام کی طرف سے اسرائیل کو خراج عقیدت پیش کرنے کی خبریں عام طور پر ذرائع ابلاغ کی زینت بن کر دکھائی دیتی ہیں۔