ابنا: ايکسفام ريسرچ سينٹر نے خبردي ہے کہ يورپي ملکوں کي معاشي کفايت شعاري کي پاليسيوں کي بدولت مزيد پچيس ملين افراد خط افلاس تک پہنچ سکتے ہيں اور يوں مجموعي طور پر يورپ ميں خط افلاس تک پہنچنے والے افراد کي تعداد ايک سو چھياليس ملين ہوسکتي ہے جو يورپ کي کل آبادي کا ايک تہائي حصہ ہے ۔مذکورہ ادارے نے يورپي يونين کے ادارہ شماريات يورو اسٹيٹ کے حوالے سے خبردي ہے کہ سن دوہزار گيارہ تک يورپي يونين ميں ايک سو بيس ملين افراد غربت کے عالم ميں زندگي بسر کررہے تھے ليکن اسپين، پرتگال، يونان اور برطانيہ جيسے يورپي ملکوں ميں معاشي کفايت شعاري کي پاليسيوں کے نفاذ کے پيش نظر مزيد پچيس ملين افراد خط افلاس تک پہنچ جائيں گے ۔ ايکسفام تنظيم نے کہا ہے کہ يورپي معاشرے ميں بڑھتے ہوئے طبقاتي فاصلے، معاشرے ميں جرائم ميں اضافے، صحت عامہ کي صورتحال کے بدتر ہونے اور شرح خواندگي ميں کمي کا باعث بن جائيں گے ۔خبروں ميں کہاگيا ہے کہ معاشي کفايت شعاري کي پاليسي کي وجہ سے بے روزگاري کي شرح ميں اضافہ ہورہا ہے اور سن دوہزار دو کے مقابلے ميں يہ شرح اپنے آپ ميں ايک ريکارڈ ہے ۔......./169
14 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 463310
يورپ کے بيشتر ملکوں ميں معاشي کفايت شعاري کي پاليسي کے نفاذ کے بعد يورپي ملکوں ميں ايک سو پچاس ملين افراد خط افلاس کے قريب پہنچ گئے ہيں ۔