ابنا: صدر حجت الاسلام ڈاکٹر حسن روحاني نے قرقیزستان کے دارالحکومت بشکيک ميں ہونے والے شنگھائي تعاون تنظيم کے سربراہي اجلاس کے موقع پر اپنے روسي ہم منصب ولاديمير پوتن سے ملاقات اور گفتگو کي جس ميں باہمي تعاون بڑھانے کي ضرورت پر زور ديا گيا۔
ايران کے صدر ڈاکٹر حسن روحاني نے اس موقع پر کہا کہ مشرق وسطي کے حساس حالات ميں تہران اور ماسکو کے درميان صلاح مشورے ميں اضافہ، مسائل و مشکلات کے حل ميں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹر حسن روحاني نے ايران کے جوہري معاملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تہران چاہتا ہے کہ اس کے جوہري معاملے کو عالمي قوانين کے دائرے ميں رہتے ہوئے جلد از جلد حل کيا جائے۔
انہوں نے بحران کے شام کے حوالے سے روسي تجويز کا خير مقدم کرتے ہوئے اميد ظاہر کي کہ اس تجويز پر عملدرآمد سے شام ميں خانہ جنگي کی روک تھام اور بحران کے پرامن حل ميں مدد ملے گي۔ صدر حسن روحاني نے کہا کہ ايک پڑوسي ملک کي حثيت سے روس کے ساتھ تعلقات، ايران کے لئے ہميشہ اہم رہے ہيں اور تہران ماسکو کے ساتھ تمام شعبوں ميں تعاون اور تعلقات کے فروغ کا خواہاں ہے۔ روس کے صدر ولاديمير پوتن نے اس موقع پر کہا کہ ايران، روس کا اہم اور اچھا پڑوسي ہے اور دونوں ممالک علاقائي اور عالمي سطح پر ايک دوسرے کے ساتھ بھرپور تعاون کرسکتے ہيں۔
انہوں نے شنگھائي تعاون تنظيم کي سطح پر بھي ايران اور روس کے تعلقات اور تعاون کے فروغ کي ضرورت پر زور ديا۔ روس کے نے ايک بار پھر ايران کي پرامن جوہري سرگرميوں کي حمايت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک ايران کے ساتھ مختلف ميدانوں ميں تعاون کر رہا ہے جس ميں مزيد فروغ لانے کي ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ صدر حسن روحاني شنگھائي تعاون تنطيم کے سربراہي اجلاس ميں شرکت کے بعد جمعے کي رات بشکيک سے وطن واپس پہنچ گئے ہيں۔
.......
/169