اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین میں 14 فروری 2011 کو شروع ہونے والا پرامن عوامی انقلاب بدستور جاری ہے اور دوسری طرف سے آل خلیفہ کے توسط سے عوام کی سرکوبی کا سلسلہ بھی جاری ہے اور اس کو آل سعود سمیت امریکہ اور برطانیہ کی حمایت حاصل ہے جبکہ عالمی تنظیمیں اپنی مجرمانہ خاموشی سے ان غیرانسانی اقدامات کی حمایت کررہی ہیں چنانچہ آل خلیفہ کی حکومت اپنی تمام تر قوت صرف کرکے آزادانہ طریقے سے انقلاب کرامت کو کچلنے کے لئے ہر ممکن غیر انسانی اقدامات میں مصروف ہے۔
ــ بحرین: محمد بن عبدالجلیل کی شہادت؛ شہداء کی تعداد 113 ہوگئی
محمد بن عبدالجلیل بحرین کے انقلاب کرامت کے ایک سو تیرہویں شہید ہیں جن کو آل خلیفہ کے خونخوار جلادوں نے گاڑی سے ٹکر مار کر شہید کیا ہے۔
بحرین کے انقلاب 14 فروری کے نوجوانوں کے اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ شہید محمد عبدالجلیل کرباباد کی سڑکوں پر پرامن عوامی احتجاج کے لئے انتظامات کررہے تھے تاکہ سرکاری جلاد مظاہرے کے دوران مظاہرین کو گاڑیوں سے ٹکریں مارکر زخمی یا قتل نہ کرسکیں کہ اسی اثانہ میں خلیفی جلادوں کی گاڑیوں نے اس علاقے پر یلغار کردی اور اس بیس سالہ نوجوان کو ایک گاڑی نے ٹکر مارکر سڑک پر گھسیٹا جس سے وہ موقع پر ہی شہید ہوگئے۔
شہید عبدالجلیل اپنے والد عبدالجلیل یوسف کی مانند بحرین کی انسانی حقوق سوسائٹی کے رکن تھے اور بحرینی عوام کو قانونی خدمات فراہم کرنے میں مصروف عمل تھے جبکہ بحرین کی اسلامی اور عوامی تحریک میں بھی مؤثر کردار ادا کررہے تھے۔
دریں اثناء خلیفی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نوجوان کی موت درخت سے ایک گاڑی کے تصادم اور درخت کے ان پر گرنے کی وجہ سے، واقع ہوئی ہے!!
ــ بحرین: آل خلیفہ نے عوام کو پرامن مظاہرے کی اجازت نہ دی
آل خلیفہ کی حکومت نے کل بروز جمعہ بحرین کے مختلف علاقوں میں سڑکیں بند کرکے عوامی مظاہروں کا سد باب کیا اور چار افراد کو گرفتار کرلیا۔
ــ بحرین: 47 ممالک کی طرف سے آل خلیفہ کو سفارش
امریکہ اور برطانیہ سمیت 47 ممالک نے آل خلیفہ کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بسیونی کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی (یا تلاش حقیقت کمیٹی) کی سفارشات پر عملدرآمد کرے۔
ان ممالک نے اپنے بیان میں بحرین میں انسانی حقوق کی صورت حال کو افسوسناک اور نازک قرار دیا ہے۔
ــ سینتالیس ممالک کا بیان بحرینی باشندوں کے حقوق کی پامالی کی المناکیوں کا آئینہ دار click
ــ بحرین: آل خلیفہ حکومت علماء کو جلاوطن کرنے کے لئے طاقت استعمال کرے گی
خلیفی حکومت نے علمائے بحرین طاقت استعمال کرکے ملک بدر کرنے کی دھمکی دی ہے۔
اطلاعات کے مطابق بحرینی تنظیم ہیومین رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق آل خلیفہ نے شیخ حسین النجاتی کو دھمکی دی ہے کہ اگر وہ اتوار (15 ستمبر 2013) تک بحرین چھوڑ کر نہ جائیں تو حکومت طاقت استعمال کرکے انہیں ملک سے نکال باہر کرے گی۔ ہیومین رائٹس واچ نے کہا ہے کہ شیخ حسینی النجاتی علمی اور قوم پرست شخصیات میں سے ہیں جو حالیہ برسوں کے دوران بحرینی عوام کو قومی اخوت کی دعوت دیتے رہے ہیں۔
ہیومین رائٹس واچ آف بحرین نے اپنے بیان میں شیخ حسین النجاتی کی ان کے وطن اور جائے پیدائش سے، جلاوطنی کو بحرین کی قومی یکجہتی اور سیاسی و سماجی اتحاد پر آل خلیفہ کی جارحیت اور بین الاقوی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔
ــ بحرین کی اکثریت آل خلیفہ کی برطرفی کی خواہاں ہے
شیخ علی سلمان نے آل خلیفہ کی حکومت کی برطرفی کے عوامی مطالبے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو کچلنے کے خلیفی اقدامات اور عوام کے خلاف ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے۔
اطلاعات کے مطابق بحرین کی سب سے بڑی سیاسی جماعت جمعیۃالوفاق الاسلامی و الوطنی کے سیکریٹری جنرل شیخ علی سلمان نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ ناوی پیلے کے حالیہ موقف کی حمایت کرتے ہوئے لکھا ہے: ناوی پیلے نے آل خلیفہ کی طرف سے بحرینی عوام کی سرکوبی پر مبنی ااقدامات اور ریاستی دہشت گردی کی مذمت کی ہے۔
انھوں نے بحرین میں آزاد ریفرینڈم کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے لکھا: مجھے اطمینان کامل ہے کہ بحرین کی غالب اکثریت اس ریفرینڈم میں موجودہ حکومت کی برطرفی اور ایک عوامی اور جمہوری حکومت کی تشکیل کے حق میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرے گی۔
واضح رہے کہ ناوی پیلے نے جنیوا میں انسانی حقوق کمیشن کے چوبیسویں اجلاس کے آغاز پر حکومت بحرین سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانی حقوق کے حوالے سے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں پر عمل کرے، آزادی اظہار کو ملحوظ رکھے اور عوام کو پرامن احتجاجی مظاہروں کی اجازت دے۔
انسانی حقوق کونسل کی سربراہ نے، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے ساتھ آل خلیفہ کے عدم تعاون پر ناامیدی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: حکومت بحرین کا رویہ اس ملک میں انسانی حقوق کمیشن کے مشن کی تعطلی کا سبب بنا ہوا ہے اور یہ صورت حال بدستور جاری ہے۔
ــ بحرین: اپوزیشن جماعتیں 10 اصولوں کا نفاذ چاہتی ہیںclick
ــ بحرین: نئے تعلیم سال کا آغاز کم سن طلبہ پابند سلاسل
بحرین میں نئے تعلیمی سال کا آغاز ایسے حال میں ہوا کہ درجنوں طلبہ خلیفی اذیتکدوں میں پابند سلاسل ہیں۔
اطلاعات کے مطابق بحرینی اسکولوں میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کی تقریبات ایسے حال میں منعقدی ہوئی ہیں کہ اس ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بدستور جارہی ہیں اور درجنوں طلبہ کہ تعلیم سے محروم کرکے جیلوں میں بند کیا گیا ہے۔
جمعیت الوفاق کے "شعبہ آزادیاں اور انسانی حقوق" کے مطابق 100 سے زائد کم سن لڑکے اور طلبہ اس لئے آل خلیفہ کے اذیتکدوں میں قید ہیں ان پر سیاسی الزامات لگائے گئے ہیں اور ان الزامات کا تعلق آزادی اظہار سے ہے۔ ان بچوں میں سب سے چھوٹی عمر 13 سالہ مہدی سلمان ہے۔
وفاق نے انکشاف کیا ہے کہ اسکولز کھلنے سے صرف دو روز قبل 9 سے اٹھارہ سال کے پندرہ بچوں کو ایک تالاب کے قریب گرفتار کرکے جیل منتقل کیا گیا ہے جبکہ یہ بچے گرم موسم کے پیش نظر نہانے کے لئے وہاں پہنچے تھے اور اٹارنی جنرل نے ان بچوں پر "دہشت گردی میں ملوث" قرار دیا اور متعلقہ قانون کے تحت انہیں دو ماہ کے لئے قید کیا گیا!!
وفاق نے زور دے کر کہا ہے کہ ان بچوں میں سے متعدد افراد کو اذیتکدوں میں ٹارچر اور تشدد اور بدسلوکی کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور انہیں وکیل کی خدمات حاصل کرنے سے محروم کیا گیا ہے اور یہ وہ طلبہ ہیں جنہیں حکومت نے تعلیم سے محروم کرکے اسیری کی زندگی گذارنے پر مجبور کیا ہے۔
ــ بجرین کے سلسلے میں یورپی یونین کا سخت بیان
یورپی پارلیمان نے جمعرات (12 ستمبر 2013) کے اجلاس کے منظور کردہ بیان میں آل خلیفہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ عوام کی سرکوبی پر مبنی تمام اقدامات کو فوری طور پر ترک کردے اور تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرکے انسانی حقوق اور آزادی اظہار کے عوامی حق کا پاس رکھے۔
اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایسے حال میں جاری کیا گیا ہے کہ بحرین میں عوام کو کچلنے کے لئے خلیفی اقدامات میں شدت آئی ہے اور عوام کے پرامن اقدامات بھی جاری و ساری ہیں اور سرکوبیوں میں شدت آنے کے ساتھ ساتھ عوامی مطالبات کی سطح بھی مسلسل وسعت پارہی ہے اور خلیفی بادشاہت کو عوامی جمہوریت میں بدلنے اور انتقال اقتدار کے لئے عبوری کونسل کی تشکیل کے مطالبات سامنے آرہے ہیں۔
.............
/٭۔٭