13 ستمبر 2013 - 19:30
وہ تجویز جس نے شام مخالف دہشت گردوں کو ڈیڈلاک سے دچار کیا

یہ تجویز ایران اور روس نے پیش کی ہے اور شامی حکومت نے اس سے اتفاق کیا ہے اور اس نے نہ صرف امریکہ اور اس کے عربی اور مغربی حلیفوں کو ڈیڈلاک سے دوچار کیا ہے بلکہ حکومت شام کے خلاف برسرپیکار تکفیری دہشت گردوں کو بھی ذہنی اور نفسیاتی الجھن میں مبتلا کردیا ہے۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ حکومت شام کی طرف سے کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کے بے بنیاد الزام کی بنیاد پر گذشتہ تین ہفتوں سے مغربی ایشیا میں ایک نئی اور بے مقصد جنگ کے لئے تیاری کررہا تھا، ایران اور روس کی طرف سے شام کے کیمیاوی ہتھیاروں کے لئے ایک راہ حل سامنے آنے کے بعد، شام کے مخالفین اور تکفیری دہشت گرد شدید سیاسی الجھن اور گھٹن کا شکار ہوگئے ہیں۔ مثال کے طور پر ترکی کی طرف سے "فری سیرین آرمی" نامی دہشت گرد ٹولے کے لئے متعین کردہ کمانڈر سلیم ادریس نے شام کے کیمیاوی ہتھیاروں پر بین الاقوامی نگرانی کی تجویز کو حکومت شام کی ایک حربہ قرار دیتے ہوئے اس کو مسترد کیا اور اس حقیقت کو بےنقاب کردیا کہ حکومت شام کے خلاف برسرپیکار دہشت گرد کسی بھی چیز پر بھی یقین نہیں رکھتے حتی کہ وہ اپنے بیرونی آقاؤں کے تسلیم کردہ سیاسی حکمت عملیوں کو بھی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔  شام نے نہ صرف اپنے کیمیاوی ہتھیاروں پر بین الاقوامی نگرانی کی تجویز کا خیر مقدم کیا ہے بلکہ اعلان کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی معاہدہ کیمیاوی تخفیف اسلحہ کے معاہدے میں شام ہوجائے گا جس کی وجہ سے شام کے حقیقی دوستوں اور حلیفوں یعنی ایران اور روس سفارتی حوالے سے بہتر کارکردگی دکھا سکیں اور عالمی فورموں میں شام کے مخالفین کو مؤثر انداز میں چیلنج کرسکیں اور اس تجویز نے آج تکفیری دہشت گردوں اور سلیم ادریس اور شام مخالف تنظیموں کے اتحاد کے سربراہ احمد جریا کو شدید الجھن سے دوچار کیا ہے اور ان کے امریکی، عرب اور ترک آقا اس مخالفت کا جواز پیش کرنے کے لائق نہيں رہے ہیں۔ حکومت شام ایک باضابطہ حکومت ہے جو ایک سرزمین میں قائم ہے اور اس کی کارکردگی کو ایک حکومت اور ملک کے تناظر میں دیھا جاسکتا ہے اور یہ حکومت بین الاقوامی معاہدوں کا رکن ہے اور ان معاہدوں کی پابند ہے، اس تعہد اور پابندی کے لئے بین الاقوامی طریقہ کار موجود ہے، جبکہ مخالفین ایک شہر تو کیا ایک گاؤں کا انتظام سنبھالنے کے اہل نہیں ہیں۔ چنانچہ وہ شام کا مسئلہ حل کرنے کے لئے ہر تجویز اور منصوبے کی مخالفت کرتے ہیں اور صرف اور صرف اپنی زیادہ سے زیادہ تنہائی کے اسباب فراہم کررہے ہیں؛ جیسا کہ: اگر اس کے بعد ملک شام میں جہاں بھی کیمیاوی ہتھیار استعمال کئے جائیں پوری دنیا بآسانی اندازہ لگا سکتی ہے کہ یہ ہتھیار دہشت گردوں نے استعمال کئے ہیں جنہیں امریکہ، مغربی ممالک، اسرائیل، ترکی اور عربوں کی حمایت حاصل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭