6 ستمبر 2013 - 19:30
مصر میں جاری بد امنی کے منفی اثرات

مصر میں مخالفین اور موافقین کے مظاہرے جاری ہیں ، گذشتہ روز قاہرہ ،اسکندریہ اور دمیاط شہروں میں مخالفین اور موافقین کے مظاہروں کے موقعہ پر آپس میں ہونے والی جھڑپ میں دو مصری ہلاک اور دسیوں زخمی ہوگئے ۔

ابنا: مصر میں مخالفین اور موافقین کے مظاہرے جاری ہیں ، گذشتہ روز قاہرہ ،اسکندریہ اور دمیاط شہروں میں مخالفین اور موافقین کے مظاہروں کے موقعہ  پر آپس میں ہونے والی جھڑپ میں دو مصری ہلاک اور دسیوں زخمی ہوگئے ۔جبکہ بعض خبروں سے پتہ چلتاہے کہ مصر کے بعض علاقے فوجی مراکز میں تبدیل ہوچکے ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مصر اس وقت بہت ہی  حساس اور بحرانی دور سے گذر رہا ہے کیونکہ بحران کا مصری معاشرے میں کئی دھڑوں کے وجود میں آنے کے علاوہ سماجی ، اقتصادی اور سیکورٹی میدانوں پر بھی منفی  اثر پڑرہا ہے ۔۔ مصر کے سیاسی اورسماجی میدانوں میں ذاتی اور گروہی انتقام کادائرہ کافی حد تک پھیل چکا ہے ، جس کا واضح نمونہ تحریک اخوان المسلمین اور لیبرل پسندوں اور فوجیوں کے درمیان دشمنی  ہے ، اس وقت مصر پر فوج کا اقتدار ہے اور فوجیوں نے اخوانیوں کا  قلمع قمع کرنا شروع کردیا ہے ۔ اب تک سیکڑوں  اخوانی جیل میں جاچکے ہیں حتی تحریک اخوان المسلمین کی تحلیل کے بارے میں بھی متضاد خبریں آرہی ہیں ۔اس وقت مصری آپس میں ایک دوسرے کے مقابل کھڑ ے ہوئے ہیں جو خود امن اور سیکورٹی  کے  لئےنقصان دہ  ہوسکتا ہے ۔ گذشتہ  دومہینوں میں سیکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے اور اور سرکاری مراکز پر حملے کا مسئلہ بھی سامنے ہے ۔ مصر کے مختلف شہروں میں اخوان المسلمین کے مراکز اور ٹھکانوں کو جلادیا گیا ہے  اور سیکڑوں تجارتی مراکزلوٹےجا چکے ہیں ۔ان مسائل سے زیادہ خطرناک یہ ہے کہ مصر میں بعض گروہ آپس میں ایک دوسرے کے خلاف تشدد آمیز اقدامات انجام دے رہے ہیں جس نے سماج میں امن وسیکورٹی کو بہت زیادہ نقصان پہونچایا ہے ۔اس وقت مصر میں سیاسی قتل کا بازار گرم ہے ، مصر کے وزیر داخلہ پر قاتلانہ حملے سے پتہ چلتا ہے کہ مصر میں بعض گروہ ایسے ہیں جو اس ملک کی بحرانی صورت حال سے غلط فائدہ اٹھانا چا ہتے ہیں جو مصر کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے ۔ خصوصا مصر میں جاری بحران ،بدامنی اور آپس کی جھڑپوں کی وجہ سے مصر کابیمار اقتصاد بھی فلج ہوگیا ہے ۔مصر کی سیاحتی صنعت کا تو تقریبا جنازہ نکل چکا ہے ۔ اس کے علاوہ بیرونی سرمایہ کاری میں بھی کافی کمی  واقع  ہوئی ہے بلکہ نہ  ہونے کے برابر ہے ۔ملکی سطح پر بھی پیداوار اور خرید وفروخت کی کمی کی وجہ سے دسیوں کارخانے بند ہوگئے ہیں ۔ ایسے حالات میں مصر شدید ترین بحران سے دوچار ہے کیونکہ  مصر کی  ایک بڑی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گذار رہی ہے  اورمصرمیں جاری بحران کی وجہ سے مشقت آمیز حالات برداشت کررہی ہے جو مصر کی حاکمیت کے خلاف قانون کی نافرمانی کے سلسلے میں آگ کی چنگاری کا کام کرسکتی ہے ۔ بعض سیاسی حلقوں نے مصر میں جاری بحران کے مختلف پہلؤوں کےپیش نظر اس ملک  کا شدید بحران سے دوچار ہونے اور تمام میدانوں میں اس کے ڈوب جانے کو بعید نہیں جانا ہے خاص طورپر موجودہ صورت حال میں سلفی اور انتہاپسند گروہوں نے آپس میں درگیر دونوں گروہوں کو نقصان پہونچانے کے لئے اقدامات شروع کردئیے ہیں اور وہ فلسطین کی سرحد پر سینا کے حساس  علاقے میں فوجی ٹھکانوں پر حملے بھی کررہے ہیں ۔......./169