ابنا: انہوں نے کہا کہ مسئلہ شام کا حتمی حل تلاش کرنے کے لیے سیاسی طریقہ اختیار کیا جانا ہوگا اور دونوں متحارب فریقوں کو سیاسی عمل میں شامل کیا جانا ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ کہ زہریلے مواد کا استعمال شامی فوجیوں نے کیا ہے اور کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے واقعات کے پیش نظر شام کے پڑوسی ممالک کو خطرہ ہے۔ امریکی صدر باراک اوبامہ نے بتایا کہ دس ستمبر کو وہ امریکی عوام سے خطاب کریں گے تاکہ مسئلہ شام پر واشنگٹن انتظامیہ کے موقف کی وضاحت کریں۔ اوباما نے مزید کہا کہ وہ عالمی رہنماؤں اور امریکی کانگریس کے اراکین کے ساتھ شام میں کیمیائی حملوں کے جواب میں کئے جانے والے اقدامات پر مشاورت جاری رکھیں گے ۔ انہوں نے اس سوال کا جواب دینے سے گریز کیا کہ اگر کانگریس نے شام کےخلاف فوجی حملے کی حمایت نہیں کی تو وہ کیا کریں گے۔ واضح رہے کہ شام سواحلی علاقوں میں روس کے ساتھ چین نے بھی اپنے جنگي جہاز تعینات کر دئیے ہیں۔......./169
6 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 460293
امریکی صدر باراک اوباما نے جی-20 اجلاس کے موقع پر روس کے صدر ولادیمیر پوتین کے ساتھ ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روس اور چین، جو شام میں غیرملکی فوجی مداخلت کے شدید مخالف ہیں، کے ساتھ فوجی تصادم کو ناممکن قرار دیا۔