31 اگست 2013 - 19:30

بحرين کے عوام نے ايک بار پھر مظاہرے کرکے آل خليفہ حکومت کي برطرفي کا مطالبہ کيا ۔

ابنا: بحرين کے عوام نے ملک کے مختلف علاقوں ميں احتجاجي مظاہرے کرکے آل خليفہ حکومت کي برطرفي کا مطالبہ کيا ۔ بحريني عوام نے اس عزم کا اعلان کيا کہ وہ اپنے ملک ميں آزادي اور جمہوريت کے قيام تک اپني پرامن تحريک جاري رکھيں گے ۔بحريني مظاہرين نے اسي طرح سياسي قيديوں کو فوري طور پر رہاکئے جانے اور جيلوں ميں ان پر ہونےوالے تشدد کو بند کئے جانے کا مطالبہ کيا ۔ بحرين کے پرامن مظاہرين نے اسي طرح عالمي اداروں سے بھي کہا کہ وہ آل خليفہ حکومت پر انساني حقوق کي پاسداري کرنے کے لئے دباؤ ڈالے ۔دوسري جانب جمعيت وفاق اسلامي کي خواتين ونگ نے اپنے ايک بيان ميں خواتين اور بچوں کے حقوق کي مسلسل پامالي پر حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحرين کي حاملہ خاتون ناديہ علي کي گرفتاري خواتين کے تئيں آل خليفہ حکومت کي بے احترامي اور اس کي اخلاقي ديوالئے پن کي علامت ہے  ۔اس درميان بحرين ميں انساني حقوق کے ايک سرگرم کارکن شيخ ميثم سلمان نے بحرين کے حمد شہر ميں امام ہادي مسجد کي چورانوے فيصد زمين کو حکومت کے ذريعے ضبط کرلئے جانے  کو مساجد کي اراضي اور بحريني عوام کے ديني اور سماجي حقوق پر ڈاکے سے تعبير کيا ہے ۔ بحرين ميں سن دوہزار گيارہ سے اب تک دسيوں افراد شہيد سيکڑوں زخمي اور بڑي تعداد ميں لوگوں کو گرفتار کيا جاچکا ہے جبکہ بڑي تعدد ميں مساجد کو بھي حکومتي کارندوں نے آل خليفہ حکومت کے کہنے پر مسمار کرديا ہے ۔

.......

/169