ابنا: غم وغصے میں بھرے ہوئے پاکستان کے پارلمانی نمایندوں نے امریکی ڈرون حملوں کی مخالفت اوربین الاقوامی اداروں منجملہ اقوام متحدہ پر تنقید کر تے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اقوام متحدہ کے ذریعہ اپنے ڈرون حملوں کو قانونی شکل دینے کی کوشش میں ہے ۔ اس سے پہلے خیبر پختونخواہ اور سیستان وبلو چستان کے صوبائی صوبوں میں بھی ایک قرار داد پاس کرکے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کی مذمت کی تھی ۔ حکومت پاکستان کی طرف سے شائع شدہ ایک بیان کے مطابق جو پارلیمنٹ کے کھلے اجلاس میں پڑھاگيا ۔ گذشتہ نو برسوں میں پاکستان پر 339 ڈرون حملوں میں کم از کم چارسو عام شہری پاکستان مارےگئے ہیں جن میں عورتوں اوربچوں کی ایک تعداد بھی شامل ہے ۔ اسلام آباد نے بارہا بین الاقوامی برادری منجملہ اقوام متحدہ سے ڈرون حملوں کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ پاکستان کے پارلیمانی نمایندوں نے اعلان کیاہےکہ ڈرون حملے پاکستان کی قومی حاکمیت اورارضی سالمیت کی خلاف ورزی ہے ۔ لیکن امریکہ اقوام متحدہ اور بعض اتحادی ملکوں کے ذریعہ ان حملوں کوقانونی شکل دینے کی کوشش میں ہے ۔ پاکستان کے پارلیمانی نمایندوں کےمطابق اسلام آباد نے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کے بارے میں کبھی بھی واشنگٹن کے ساتھ مکتوب کسی بھی قرارداد پر دستخط نہیں کیا ہے ،لیکن گذشتہ حکومتوں نے ڈروں حملوں کے مقابلے میں خاموشی اختیار کی اور سنجیدہ ہوکر ان حملوں کو روکنے کے بارے میں کبھی بھی رد عمل کامظاہرہ نہیں کیا ۔تحریک انصاف پارٹی کی قومی پارلیمنٹ کی نمایندہ محترمہ شیریں مزاری نےیہ اہم سوال اٹھایا ہے کہ اگر حکومت نے ڈرون حملوں کے بارے میں کسی قرار داد پر دستخط نہیں کیا ہے تو حکام ان حملوں کو روکنے کے سلسلے میں مناسب اقدام کیوں نہیں کرتے ہیں ؟ پاکستان کے ایک اور پختونخواہ کی قومی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے حکومت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام یہ جان لیں کہ حکومت ڈرون حملوں کو روکنے کے سلسلے میں امریکہ پر بین الاقوامی دباؤ کیوں نہیں ڈالتی ہے ؟نواز شریف نے نئی حکومت کی تشکیل کے بعد اپنی پہلی تقریر میں ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہوۓ ان حملوں کو پاکستان کی قومی حاکمیت کے خلاف قرار دیا اور وزارت خا رجہ سے کہا کہ واشنگٹن کے خلاف پاکستان کی طرف سےشدید اعتراض کا اظہار کرے ۔امریکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں چھپے ہوئے القاعدہ کے بچے کھچے عناصر اوردہشت گرد گروہوں سے مقابلےکے بہانے ڈرون حملوں کو جاری رکھے ہوئے ہے ۔ یہ ایسے وقت ہے کہ پاکستان کے حکام ، سیاسی اور مذھبی پارٹیوں کے مطابق ڈرون حملے غیر قانونی اورقومی حاکمیت کے خلاف ہیں جس کے نتیجہ میں صرف نہتے شہری مارے جاتے ہیں ۔ پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کا دوہزار چار سے آغاز ہوا جس میں اب تک چار ہزار کے قریب لوگ مارے جاچکے ہیں ۔ عداد وشمار سے پتہ چلتاہے کہ باراک اوباما کے دور صدارت میں ان حملوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے
.......
/169