ابنا: اقوام متحدہ کے ايک ترجمان فرحان حق نے پير کے روز نيويارک ميں صحافيوں سےگفتگو ميں بتايا کہ امريکہ سے ان رپورٹوں کے بارے ميں وضاحت چاہئے جن ميں کہا گيا ہے کہ امريکہ کي نيشنل سيکوريٹي ايجنسي نے اقوام متحدہ کے خلاف بھي جاسوسي کي ہے ۔فرحان حق نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ سفارتي تعلقات کے سلسلے ميں 1961 کا کنوينشن، اقوام متحدہ کي کارکردگي اور اس کے سفارت کاروں کو تحفظ فراہم کرتا ہے، کہا کہ امريکہ کي جانب سے اقوام متحدہ کي جاسوسي کے معاملے پر اس ملک کے حکام سے گفتگو کي جائے گي ۔ اقوام متحدہ کے ترجمان نے زور ديا ہے کہ رکن ملکوں کو ايسا رويہ اختيار کرنا چاہئے جس سے سفارتکاروں کے حقوق کا تحفظ ہو سکے ۔جرمني سے شائع ہونے والے رسالے شپيگل نے ايڈورڈ اسنوڈن کے پاس موجود دستاويزوں کے حوالے سے يہ انکشاف کيا ہے کہ امريکہ کي نيشنل سيکوريٹي ايجنسي نے 2000 کے موسم گرما ميں اقوام متحدہ کے ويڈيو کانفرنسنگ سسٹم کو ڈي کوڈ کرنے ميں کاميابي حاصل کر لي تھي ۔اشپيگل کے مطابق اين ايس اے اسي طرح اقوام متحدہ ميں يورپ کے نمائندہ دفتر اور ويانا ميں آئي اے اي اے کے ہيڈکوارٹر ميں جاسوسي ميں کامياب ہوئي تھي ۔ عام شہريوں کي جاسوسي کے سلسلے ميں اسنوڈن کے انکشافات کے بعد عالمي سطح پر امريکہ کو کئ مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
.......
/169