24 اگست 2013 - 19:30
بحرین میں ایک بار پھر پر امن مظاہرے

بحرين کے دارالحکومت منامہ کے نواحي علاقوں ميں ايک بار پھر جمہوريت کے حق ميں مظاہروں کي خبريں موصول ہوئي ہيں۔

ابنا: خبروں ميں کہا گيا ہے کہ ہزاروں کي تعداد ميں بحريني شہري دارالحکومت منامہ کے نواحي علاقوں کي سڑکوں پر آئے اور انہوں نے شاہي حکومت کے خلاف پرامن احتجاج  شروع کيا۔ مظاہرين نے اپنے ہاتھوں ميں شاہي حکومت کي جيلوں ميں بند قيديوں کي تصاوير بھي اٹھار رکھيں تھيں۔مظاہرين شاہ بحرين حمد بن عيسي آل خليفہ اور وزيراعظم سلمان بن آل خليفہ کے خلاف نعرے لگار ہے تھے۔ مظاہرين کا کہنا تھا کہ وہ اپنے جمہوري اور سياسي حقوق کي بحالي تک پرامن مظاہروں کا سلسلہ جاري رکھيں گے۔ مظاہرين نے عالمي برادري سے بھي اپيل کي کہ وہ شاہي حکومت کو انساني حقوق کے مسلمہ اصولوں کي خلاف ورزي سے روکنے کے لئے اس پر دباؤ ڈالے۔دوسري جانب اطلاعات ہيں کہ ايمنسٹي انٹرينشنل نے بحرين کي سرکردہ سياسي کارکن ريحانہ موسوي کے خلاف تشدد کي شديد الفاظ ميں مذمت کي ہے۔ ايمنيسٹي انٹرنيشنل کے جاري کردہ بيان ميں کہا گيا ہے کہ ريحانہ موسوي پر جيل ميں انتہائي ظالمانہ سلوک کيا جارہا ہے اور انہيں طبي سہولتيں بھي فراہم نہيں کي جارہي۔ ايمنيسٹي انٹر نيشنل نے ريحانہ موسوي کي فوري رہائي اور ان پر تشدد کرنے والے سيکورٹي اہلکاورں کو سخت ‎سزا دينے کا مطالبہ کيا ہے۔واضح رہے کہ ریحانہ موسوي کو اپريل 2013 کے پرامن مظاہروں کے دوران گرفتار کيا گيا تھا اور شاہي حکومت کے اہلکار جيل ميں انہيں بدترين تشدد کا نشانہ بنا رہے ہيں ۔

.....

/169