14 اگست 2013 - 19:30
پاکستان پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے، بان کی مون

یو این او کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ ”ڈرون یا کسی بھی ہتھیار کا استعمال عالمی قانون اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی خلاف وزری ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ امریکی ڈرون مسلسل پاکستان کے اندر اس کے قبائلی علاقوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔

ابنا: پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے پاک فوج کے زیرِانتظام نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں عالمی امن و استحکام مرکز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے پڑوسی ملک کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرے اور عوامی ترقی پر توجہ دے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار امن قائم کرنے کی خاطر امن اور ترقی کو ساتھ چلنا چاہیے، عام لوگوں کو اپنے بچوں کے لیے اسکول اور زندگی کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے روزگار چاہئیے۔

بان کی مون نے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تنازعات کو ختم کرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کسی بھی پڑوسی کا نام نہیں لیا، جبکہ یہ بھی واضح تھا کہ وہ افغانستان اور ہندوستان کا حوالہ دے رہے تھے جس سے یہ مزید واضح ہوگیا کہ ان کی بات معمولی نہیں تھی، لیکن انہوں نے خاص طور پر پاکستان کا ذکر کیا کہ وہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے راستے پر چلے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اپنے ان خیالات کا اظہار پاکستان کے یوم آزادی کے حوالے سے منعقدہ تقریب کے حاضرین میں موجود پاک فوج کی اعلٰی سطح کی قیادت کے سامنے کیا، ان میں پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور سینیئر وزراء بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت جب پاکستان اپنا ایک اور یوم آزادی منا رہا ہے، اس کو داخلی شدت پسندی کے چینلجز، تباہ حال بنیادی ڈھانچے اور لَڑکھڑاتی ہوئی معیشت کا سامنا ہے، جبکہ دوسری جانب پاکستان مشرقی اور مغربی سرحدوں پر اپنے دونوں پڑوسیوں کی بڑھتی ہوئی مخالفت کا سامنا کر رہا ہے۔ جنرل سیکریٹری بان کی مون کا کہنا تھا کہ اس پر محض تبصرے کرنے کے بحائے متحد ہوکر اس حکمت عملی پر غور کرنا چاہیے کہ انتہا پسندی اور دشت گردی کے خطرات سے کس طرح نمٹا جائے جو بے قابو ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں حکومت پر زور دیا کہ وہ دفاعی نظام کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی ترجیحات کو دوبارہ مرتب کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں عوامی ترجیحات کو اہمیت دینا چاہیے، جس میں تعلیم، توانائی، اور بہتر روزگار فراہم کرنا شامل ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کی حکومتیں اہم عوامی منصوبوں کے بجائے دفاعی خرچ میں اضافہ پر تنقید کرتی رہی ہیں۔ بان کی مون کا کہنا تھا کہ حکومت نے اس سال مالی مشکلات کی وجہ سے تمام اخراجات میں 30 فیصد کمی کی ہے لیکن دفاع اور قرضوں کی ادائیگی جیسے دو اخراجات کو کم نہیں کیا گیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ترقی کے بغیرامن قائم نہیں ہوسکتا ہے۔

نیشنل یونیوسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی تقریب میں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری بان کی مون نے قبائلی علاقوں میں ہونے والے ڈرون حملوں کے متنازعہ معاملہ پر مختصراً کہا کہ ”ڈرون یا کسی بھی ہتھیار کا استعمال عالمی قانون اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی خلاف وزری ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ امریکی ڈرون مسلسل پاکستان کے اندر اس کے قبائلی علاقوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ جس پرحکومت کی جانب سے شدید احتجاج کیا جاتا رہا ہے اور اسلام آباد کا بار بار یہی کہنا ہے کہ یہ حملے اس کی خود مختاری اور عالمی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور ان حملوں پر امریکہ کے خلاف عوام میں بھی غصہ پایا جاتا ہے۔

.......

/169