13 اگست 2013 - 19:30
یوم آزادی کا جشن / با تصویر

آج پاکستان بھر میں جشن یوم آزادی روایتی جذبہ حب الوطنی اور جوش و خروش سے منایا جا رہا ہے۔

ابنا: پاکستان کے  ویں یوم آزادی کے موقع پر پاکستانی قوم کے نام اپنے پیغام میں وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی بقاء و سالمیت، جمہوری عمل کے تسلسل اور عوامی حقوق کی پاسداری سے وابستہ ہے۔ حکومت ملک میں امن و امان کی بحالی، انتہاء پسندی و دہشت گردی جیسی برائیوں کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کے لئے پرعزم ہے۔وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے نے عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردوں کو شکست فاش دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، قوم اور افواج پاکستان کے تعاون سے دہشت گردی پر قابو پالیں گے، ملک کو امن اور سلامتی کا گہوار بنائیں گے، آنے والی نسلوں کو محفوظ پاکستان دیں گےادھرآرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا کہ دہشت گردی کے سامنے جھکنا کوئی حل نہیں، ہمیں دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے کسی بھی حل پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے، پاک فوج نے بے مثال قربانیاں دیں ہیں اور آج بھی ہم قوم کے ساتھ کھڑے ہیں، یہ جنگ تب ہی جیتی جا سکتی ہے جب ہم سب مل کر ایک حکمت عملی پر متفق ہوں تاکہ نہ تو ہمارے زہنوں میں ابہام رہےان کا کہنا تھادہشت گرد اپنے نا پاک عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے کیونکہ اس قوم نے 10 سال تک دہشت گردی کا سامنا کرنے کے باوجود خوف کو اپنے اوپر طاری نہيں ہونے دیا اور ایسی بہادر قوم کے خلاف دہشتگردی بطور حکمت عملی کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔کسی قوم کے لئے اپنے آزاد و خودمختار وطن کی تشکیل سے بڑی خوشی تو اور کوئی نہیں ہو سکتی اس لئے تشکیلِ وطن والا دن منانا اور تزک و احتشام سے منانا ایک طرح سے وطن کے تحفظ و دفاع اور استحکام کے لئے تجدید عہد کی صورت میں اور زیادہ ضروری ہو جاتا ہے۔ اس روز جہاں ملکی اور قومی تعمیر و ترقی کے تقاضوں کو اجاگر کرنے میں مدد ملتی ہے وہیں قومی قائدین کے جاری کئے گئے مشن پر چلنے اور اسے برقرار رکھنے کے لئے قوم میں نیا جذبہ بھی فروغ پاتا ہےپاکستان کو اس وقت بہت سارے اندرونی اور بیرونی خطرات درپیش ہیں۔ دہشت گردی اور بدامنی سب سے بڑے چیلنجز ہیں۔ عام آدمی مہنگائی، بیروزگاری اور انرجی بحران کی وجہ سے سخت پریشانی کا شکار ہے۔ پاکستانی تجزیہ کاروں کے مطابق دہشت گردی اور قتل وغارت گری اس ملک کا مقدر بنا دی گئی ہے کرپشن اس ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے، انصاف اس ملک میں چراغ لے کر ڈھونڈنے سے نہیں ملتا، روزانہ مساجد، امام بارگاہوں، درباروں بازاروں اور چوراہوں پر بیگناہوں کے خون سے ہولی کھیلی جاتی ہے، اب تو حد ہی ہوگئی روز روز دسیوں فوجی جوان اس ملک کے اندر موجود دہشت گردوں کی بربریت کا نشانہ بن رہے ہیں لیکن افسوس کہ پالیسی ساز اپنے محلات میں پرسکون نیند سو رہے ہیں حکمران ماضی کے ہوں یا موجودہ، سب بڑے بڑے دعوے اور وعدے تو کرتے ہیں مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کارکردگی کے لحاظ سے ان کا گراف انیس اور بیس کے درمیان ہی رہتا ہے۔ یہ کہنے میں کوئی باق نہیں کہ ملکی اور بین الاقوامی حالات و واقعات کے تناظر میں  پاکستان میں اس وقت قومی سطح پر جتنی اتحاد و یکجہتی اور ہم آہنگی کی ضرورت ہے شاید اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔ مسائل اور مشکلات ہیں کہ کسی آندھی اور طوفان کی طرح امڈے چلے آتے ہیں۔پاکستان اس وقت تاریخ کے انتہائی نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ عوام نیشنل سیکورٹی پالیسی کے اعلان کے منتظر ہیںپاکستان کو ترقی، خوشحالی، استحکام اور مضبوطی تب حاصل ہوسکتی ہے جب ملک میں عادلانہ نظام کا نفاذ کیا جائے، عدل و انصاف اور جرم و سزا کاقانون رائج کیا جائے، ظلم، ناانصافی، تجاوز ، زیادتی اور طبقاتی تفریق کو ختم کیا جائے، توازن کی ظالمانہ پالیسیوں کو ختم کرکے فرقہ وارانہ تشدد اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ٹھوس، موثر، پائیدار اور مستقل اقدامات کئے جائیں، ہزاروں عوام کے قاتلوں، مجرموں، دہشت گردوں اور اور ان کے سرپرستوں کو بے نقاب کرکے تختہ دار پر لٹکایا جائے، آئین کا احترام اور قانون کی پابندی کو یقینی بنایا جائے مستقل طور پر آمریت کا راستہ روکا جائے، ملک سے بے روزگاری، رشوت ستانی، جہالت، فحاشی، عریانی، ناانصافی اور بے عدلی کا خاتمہ کیا جائے، اتحاد بین المسلمین اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے، تمام طبقات کے درمیان قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے، اور دور جدید کے تمام سائنسی، علمی، ثقافتی اور ارتقائی تقاضوں کو اسلام اور اسلامی قوانین سے ہم آہنگ کیا جائے۔بانی پاکستان پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ بنانا چاہتے تھے لیکن بدقسمتی سے سامراجی سازشوں کی بدولت پاکستان دہشت گردی، لاقانونیت، فرقہ واریت، کرپشن، رشوت ستانی، غنڈہ گردی جیسی بلّیات اور بدعات کی تجربہ گاہ تو بنا ‘اسلام کی تجربہ گاہ نہ بن سکا۔ سیاست دانوں میں برداشت اور تحمل کا فقدان ہے‘ خودکش بمباروں نے پورے ملک کو بارود کا ڈھیر بنا دیا ہے‘ ایک انسان دوسرے کو کافر قرار دیکر ایک دوسرے کو ذبح کر رہے ہیں۔ علیحدگی پسند بے گناہوں کو گولیوں سے بھون ڈالتے اور بربریت سے سنگسار کر رہے ہیں۔ کہیں بھتہ خوروں نے امن کو دائو پر لگا دیا اور کہیں قبضہ مافیا نے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے۔ سیاسی اجارہ داری کیلئے انسانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا جاتا ہے۔ قومی وسائل کو بے دردی سے لوٹا جا رہا ہے جس میں سیاست دان اور بیوروکریٹ سب برابر کے شریک ہیں۔آج پاکستان کو متعدد اندرونی اور بیرونی خطرات کا سامنا ہے اس میں سب سے بڑا چیلنج دہشتگردی ، انتہا پسندی اور امن و امان کا ہے مختلف دہشتگرد گرو پس اور عناصر پاکستان کو نقصان پہنچانے کی خاطر اپنے حیوانی نظریات کے ذریعے آئے دن سیکورٹی فورسز اور معصوم لوگوں کا قتل عام کررہے ہوتے ہیں ان عناصر کا اسلام اور پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے وہ دہشت گرد پاکستان دشمن عناصر اور ملکوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں یقیناًانشاء اللہ ان کو ناکامی ہی ہوگی آج پاکستانی قوم کو اتحاد اور تنظیم کی ضرورت ہے اس میں حکومت ، اپوزیشن ، منتخب نمائندوں ، سرکاری اہلکاروں ،کاروباری حضرات ، کسان ، استاد ، ڈاکٹر ، مزدور، خواندہ ، ناخواندہ ، مرد ، عورت ، بوڑھا ، بچہ ، جوان ، پیر ، فقیر ہرایک کو اپنی اپنی جگہ اور استعدادکے مطابق خلوص نیت اور ایمانداری کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنا ہو گاپاکستان کو اللہ رب العزت نے تمام وسائل دیئے ہیں اس کی دنیا میں ایک اہمیت ہے پاکستانی قوم  کو اپنی قدر اور حیثیت کو حقیقی معنوں میں پہچاننا ہو گا ۔ جس دن اس نے اپنے آپ کو پہچان لیا اسی روز ایمان ۔ اتحاد اور تنظیم پر عملدر آمد آسان ہو جائے گا اور اسی میں پاکستان اور امت مسلمہ کی کامیابی و کامرانی ہے

.......

/169