اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کویت کے حکومتی عہدہ داروں نے وہابی مفتی شافی العجمی کو اس کی گزشتہ فتنہ انگیز تقریروں کے باعث ٹی وی پر گفتگو کرنے سے منع کر دیا ہے۔کویت کے وزیر اطلاعات شیخ سلمان الحمود نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شافی العجمی کی باتوں کے بارے میں تحقیقات انجام دی جائیں گی۔گزشتہ روز اس وہابی مفتی کی کویت ٹی وی چینل سے منتشر ہونے والی گفتگو میں اس نے شام کے شیعوں کا قتل عام کروانے کا اقرار کرتے ہوئے ان کے سلسلے میں توہین امیز کلمات کہے۔شافی العجمی کے شائع شدہ ایک ویڈیو کلیپ میں اس نے شام کے شیعوں کے قتل عام پر فخر کیا ہے۔کویت کے وزیر اطلاعات نے کہا: کویت کی حکومت کسی کو بھی فرقہ واریت کے آگ پھیلانے کی اجازت نہیں دے گی۔العجمی ہمیشہ شیعوں کے خلاف مقالے لکھ کر اور تقریریں کر کے شام میں جبھۃ النصرہ کو شیعوں کے قتل عام پر اکساتا ہے۔دو ماہ قبل العجمی کے فتوے سے جبھۃ النصرہ نے شام کے صوبہ دیر الزور کے شیعہ نشین علاقے حطلہ کے ۶۰ بوڑھوں، عورتوں اور بچوں کا قتل عام کیا تھا۔اس دردناک واقعہ کا بارز ترین نمونہ حجۃ الاسلام سید ابراہیم السید کے اہل خانہ کے سامنے ان کی اہلیہ اور بیٹے کا سر قلم کرنا تھا۔شیعوں کے اس قتل عام کے بعد عراق کے ایک تاجر نے العجمی کے سر پر انعام رکھا جس کی وجہ سے وہ شام سے بھاگ کر کویت پناہ گزیں ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
12 اگست 2013 - 19:30
News ID: 451295
شام میں دسیوں شیعہ جوانوں، بوڑھوں، عورتوں اور بچوں کے قتل عام کا فتویٰ دینے والا وہابی مفتی شافی العجمی جو کویت میں پناہ گزیں تھا اس ملک میں ممنوع الخطاب ہو گیا ہے۔