ابنا: تحريک طالبان پاکستان کے ترجماننے ايک نيوز چينل کو انٹرويو ديتے ہوئےکہا کہ مذاکرات ميں مذہبي رہنماؤں کي شرکت کي شرط کے ساتھ طالبان، حکومت سے مذاکرات کريں گےـ انہوں نے جمعيت علمائے اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمان اور جماعت اسلامي کے رہنما سيد منور حسن کے سلسلے ميں کہا کہ طالبان مذاکرات ميں ان افراد کي شرکت کا خير مقدم کريں گےـ
مذاکرات کا يہ معاملہ ايسے وقت سامنے آيا ہے کہ جب نواز شريف حکومت نے طالبان سے مذاکرات پر رضامندي کے باوجود بظاہر طالبان کے بڑھتےہوئے تشدد کي روک تھام کے لئے فوجي طاقت کے استعمال کو ناگزير حکمت عملي قرار ديا ہےـ نواز شريف کي حکومت کي تشکيل کے بعد سے اب تک تقريبا دو سو افراد دہشت گردانہ حملوں ميں مارے جا چکے ہيں ـ
.......
/169