ابنا: حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اتوار کو مختلف یونیورسٹیوں کے طالبعلموں سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ حادثات و واقعات اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ ان ممالک میں اسلامی بیداری کے گہرے آثار موجود ہیں لیکن اسکی صحیح مدیریت نہیں کی گئی اور اس میں خیانت کی گئی ہے، آج مصر جیسے بڑے ملک کے حالات بہت زیادہ دردناک ہیں۔
آپ نے فرمایا کہ طالبعلوں کے گروہ کو چاہئے کہ، اسلامی بیداری کا عمل اور اس کے مقابلے میں استکبار کی رکاوٹیں، خطے کے ممالک میں ہونے والی غلطیاں اور ان ممالک میں ہونے والے حادثات و واقعات کا ایران کی اسلامی جمہوریہ کے قیام اور اس کی بقا سے موازنہ جیسے موضوعات پر بحث و مباحثہ کے زریعے اپنے ملک اور ملت کی خدمت انجام دیں۔
آپ نے فرمایا کہ خطے کے حالات کا حقیقیت پسندانہ جائزہ اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ بعض موضوعات اسلامی نظام کو مستحکم کرنے کا سبب اور اسلامی جمہوریہ کی بہترین اسٹریٹجی کو بیان کر رہے ہیں۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اسلام دشمن عناصر کی جانب سے شیعہ اور سنی اختلاف کو ہوا دینے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ شیعیوں کو دنیا کے مختلف ممالک میں تہہ تیغ کیا جا رہا ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ شیعہ اسلامی جمہوریہ ایران کے حامی ہیں حالانکہ دشمن کو نہیں معلوم کہ بہت سارے ممالک میں ہمارے اہل سنت بھائی بھی انتہائی شدت کے ساتھ اسلامی نظامی کا دفاع کر رہے ہیں۔
.......
/169