27 جولائی 2013 - 19:30
مصری فوج کی ہو رہی ہے مذمت

مصر میں معزول صدر مرسی کی حمایت میں نکالی جانے والی ریلیوں پر مصری فورسز کی فائرنگ سےجہاں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے وہیں بڑے پیمانے پر محمد مرسی کے حامیوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

ابنا: تازہ رپورٹ کے مطابق، اتوار کی صبح بھی محمد مرسی کے حامیوں نے ملک کے مختلف شہروں میں مظاہرے کئے اور خبر لکھے جانے تک مظاہروں کا سلسلہ جاری تھا۔دوسری جانب مصر میں فوج کے ہاتھوں مرسی کے درجنوں حامیوں کی ہلاکت کے بعد فوج کی مذمت تیز ہو گئی ہے۔ جامعۃ الازہر کی مسجد کے امام نے واقعہ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جبکہ عبوری حکومت میں نائب صدر محمد البرادعی نے کہا کہ طاقت کا زیادہ استعمال کیا گیا۔ قابل ذکر ہے کہ ان دنوں نے مرسی کو حکومت سے ہٹائے جانے کی حمایت کی تھی۔جامعۃ الازہر نے ایک بیان جاری کرے جھڑپوں اور قتل وغارت کی تحقیق کا فوری مطالبہ کیا ہے۔ اخوان المسلمین نے فوج پر فائرنگ کرکے لوگوں کے قتل کا الزام لگایا ہے تاہم مصر کے داخلی امور کے وزیر محمد ابراہیم کا کہنا ہے کہ قاہرہ میں ایک مسجد کے پاس جمع لوگوں کو ہٹانے گئے فوجیوں پر حملہ کر دیا گیا  تھا اور سیکورٹی فورسز نے صرف آنسو گیس کا استعمال کیا تھا۔ واضح رہے کہ دو روز قبل مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ،اخوان المسلمین نے معزول صدر محمد مرسی کی حمایت میں ریلی نکالی۔ اخوان المسلمین کے ترجمان کے مطابق پولیس نے ریلی پر براہ راست فائرنگ کردی جس سے127سے زائد افراد ہلاک اور 4500 کے قریب افراد زخمی بھی ہوئے۔ صدر مرسی کے حامیوں اور فورسز کے درمیان ،ایئر پورٹ کے قریب جھڑپیں بھی ہوئیں۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پولیس نے آنسو گیس کےگولے فائر کئے۔

.......

/169