24 جولائی 2013 - 19:30
اسنوڈن اور روس امريکا کشيدگي

امريکي حکومت نے روس سے درخواست کي ہے کہ اڈورڈ اسنوڈن کو ماسکو ہوائي اڈہ چھوڑنے کي اجازت نہ دي جائے-

ابنا: موصولہ رپورٹ کے مطابق امريکي وزارت خارجہ کي ترجمان جن ساکي نے بدھ کے روز کہا کہ اگر روس نے اڈورڈ اسنوڈن کو کہ جنہوں نےامريکي حکومت کي طرف سے شہريوں کي جاسوسي کے پروگرام کا پردہ فاش کيا تھا، ماسکو ائيرپورٹ سے جانے کي اجازت دي تو اس سے وائٹ ہاؤس کو بہت مايوسي ہوگيساکي نے کہا کہ امريکي وزير خارجہ جان کري نے اپنے روسي ہم منصب سرگئي لاوروف سے ٹيليفوني گفتگو ميں اس بات سے انہيں مطلع کيا ہے-ساکي نے کہا کہ امريکا چاہتا ہے کہ  اسنوڈن کو اس کے حوالے کيا جائے تاکہ ان پر منصفانہ طور پر مقدمہ چلايا جائےواضح رہے کہ اڈورڈ اسنوڈن کہ جنہوں نے امريکي حکومت کي طرف سے پوري دنيا کے شہريوں کي جاسوسي کرانے کے  پروگرام کا پردہ فاش کيا تھا تيئيس جون سے ماسکو ہوائي اڈے پر رہ رہے ہيں بوليويا، نيکاراگوا اور ونزوئلا  اسنوڈن کو سياسي پناہ دينے کا اعلان کر چکے ہيں مگر ان ميں سے کسي ملک کي ماسکو کے لئے سيدھي پرواز نہيں ہے اس لئے اسنوڈن نے روس سے عارضي سياسي پناہ کي درخواست کي ہے-

.......

/169