ابنا: کہا جارہا ہے کہ مصري فوج نے رابعہ العدويہ اسکوائر پر ہيلي کوپٹروں کے ذريعے ايسے پمفلٹ گرائے ہيں جن ميں معزول صدر محمد مرسي کے حاميوں سے کہا گيا ہے کہ وہ صبر و تحمل سے کام ليں اور فوج اور سيکورٹي اداروں کےساتھ الجھنے کي کوشش نہ کريں-مصر کي فوج پہلے ہي خبر دار کرچکي ہے کہ مظاہرين سرکاري اور فوجي تنصيبات اور دفاتر کے قريب جانے سے گريز کريں-مرسي کي حکومت ختم ہونے کے بعد سے اب تک کم از کم بانوے افراد مارے جا چکے ہيں جن ميں نصف سے زائد فوج کي فائرنگ کا نشانہ بنے ہيں-درايں اثنا مرسي حکومت کے حاميوں نے احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ پير اور منگل کي رات بھي جاري رکھا اور قاہرہ سميت ملک کے مختلف شہروں ميں اہم شاہراہوں اور سڑکوں کو رکاوٹيں کھڑي کرکے بلاک کرديا- اس دوران کئي مقامات پر پوليس اور مظاہرين کے درميان تصادم بھي ہوا جس ميں کم از کم ايک شخص ہلاک اور درجنون زخمي ہوگئے-ادھر اخوان المسلمين کے ايک ترجمان احمد عارف نے فوجي بغاوت کرنے والوں کو ملک ميں جاري بدامني اور ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار ديا ہے- انہوں اپنے ايک بيان ميں کہا ہے کہ ملک کے مختلف شہروں ميں پير کي رات ہونے والي جھڑپوں کي ذمہ داري فوجي حکومت، پوليس اور ان لوگون پر عائد ہوتي ہے جنہون نے پرامن مظاہرين پر بقول انکے حملے کئے ہيں-واضح رہے کہ رامسس اسکوائر پر پوليس اور مرسي کے حاميوں کے درميان ہونے والي جھڑپون ميں کم از کم ايک شخص ہلاک اور متعدد کے زخمي ہونے کي خبر ہے، قاہر ہ کے علاوہ ، اسکندريہ، پورٹ سعيد، سوہاج، وادي جديد اور اسماعيليہ ميں بھي معزول صدر محمدي مرسي کے حاميوں نے مظاہرے کئے ہيں - مظاہرين نے اپنے ہاتھوں ميں معزول صدر کي تصاوير اور ايسے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر صدر مرسي حکومت کي بحالي کے حق ميں نعرے درج تھے-






































.......
/169