’’مصطفیٰ آل محسن‘‘ کو قطیف کے شھر العوامیہ میں تین مظاہروں میں شرکت، آل سعود حکومت کے خلاف فوٹو موبائل میں رکھنے اور مظاہروں میں لوگوں کے درمیان حکومت مخالف فوٹو تقسیم کرنے کے جرم میں اس ملک کی عدالت نے آٹھ سال جیل کی سزا دے دی ہے۔
نیز دوسرے شخص ’’میثم آل حمدون‘‘ کو بھی قطیف میں چند مظاہروں میں شرکت کرنے، حکومت مخالف سائٹوں میں ہمکاری کرنے اور آل سعود حکومت کی توہین میں بینر لکھنے کے جرم میں ۹ سال کی سزا سنائی گئی ہے۔
ان افراد کے خلاف ایک جرم یہ بھی ہے کہ انہوں نے قیدیوں کی رہائی کے لیے درخواست دائر کی ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب کے شہر قطیف میں ۲۰۱۱ سے اس ملک کی حکومت کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں دسیوں افراد شہید اور سینکڑوں کو جیلوں مین بند کر دیا گیا ہے۔
سعودی عرب کے شیعوں کا کہنا ہے کہ آل سعود حکومت اس ملک کے شیعوں کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے اور ان کے حقوق پامال کئے جا رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲
نیز دوسرے شخص ’’میثم آل حمدون‘‘ کو بھی قطیف میں چند مظاہروں میں شرکت کرنے، حکومت مخالف سائٹوں میں ہمکاری کرنے اور آل سعود حکومت کی توہین میں بینر لکھنے کے جرم میں ۹ سال کی سزا سنائی گئی ہے۔
ان افراد کے خلاف ایک جرم یہ بھی ہے کہ انہوں نے قیدیوں کی رہائی کے لیے درخواست دائر کی ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب کے شہر قطیف میں ۲۰۱۱ سے اس ملک کی حکومت کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں دسیوں افراد شہید اور سینکڑوں کو جیلوں مین بند کر دیا گیا ہے۔
سعودی عرب کے شیعوں کا کہنا ہے کہ آل سعود حکومت اس ملک کے شیعوں کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے اور ان کے حقوق پامال کئے جا رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲