اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ آیت اللہ العظمیٰ سیستانی نے لمبے دنوں میں روزہ رکھنے، روزے کی حالت میں کمزوری آجانے اور حاملہ عورت کے روزے رکھنے کے بارے میں کئے گئے سوالات کے یوں جوابات دئے ہیں:روزہ اور کمزوریسوال: ایک شخص ماہ رمضان میں روزے رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا اور روزے رکھنے سے اس پر کمزوری غالب آجاتی ہے کیا ایسا شخص روزہ رکھے یا نہیں؟محض کمزوری کا پیدا ہونا روزہ چھوڑنے کا جواز نہیں ہے اگر چہ کمزوری شدید ہی کیوں نہ ہو جائے۔ مگر یہ کہ کمزوری سے کوئی حرج پیدا ہوتی ہو تو اس صورت میں روزہ چھوڑنا جائز ہے اور بعد میں اس کی قضا کی جائے گی۔ اسی طرح اگر کمزوری اور ناتوانی روزی کمانے کی راہ میں رکاوٹ کا باعث بنے اس فرض کے ساتھ کہ اس کے پاس اس کام کے علاوہ روزی کمانے کا کوئی دوسرا ذریعہ نہ ہو، اور اسی طرح اگر مزدور شدید پیاس کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکتا ہو تو ان دو صورتوں میں احتیاط یہ ہے کہ اتنی مقدار میں کھانے پینے پر اکتفا کرے کہ جس سے اس کی تشنگی اور کمزوری برطرف ہو جائے اور اس سے زیادہ کھانے پینے سے اجتناب کرے اور بعد میں ان روزوں کی قضا بجا لائے۔حاملہ عورت کے روزے کا حکمسوال: وہ عورت جو حاملہ ہونے کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکتی ہو اسے کتنا کفارہ دینا ہو گا؟اس پر کوئی کفارہ نہیں ہے۔سوال: حاملگی کی ابتدا سے لے کر شیر دہی( دودھ پلانےکی مدت) کے آخر تک جو روزے مجھ سے قضا ہوئے ہیں انہیں کیسے اداکروں؟ کیا بدنی کمزوری کے باوجود میں مجھےان کی قضا کرنا ہو گی؟جتنی مقدار میں قضا کر سکتی ہیں اتنی مقدار میں کریں۔لمبے دنوں کے روزوں کا حکمسوال: میں ڈنمارک میں رہتا ہوں یہاں پر ماہ مبارک رمضان میں ۱۸ سے ۱۹ گھنٹے کا دن ہے، ہمارے روزے کا کیا حکم ہے؟جو شخص طلوع فجر سے غروب تک روزہ رکھنے پر قادر ہےاور ناقابل برداشت زحمت کا متحمل نہیں ہو پا رہا ہےاس پر پورے دن کا روزہ رکھنا واجب ہے مگر یہ کہ وہ سفر کرے اور بعد میں ان کی قضا بجا لائے۔ لیکن وہ افراد جن کے لیے اس مدت میں روزہ رکھنا ناقابل برداشت ہے انہیں چاہیے کہ سفر اختیار کریں یا یہ کہ طلوع فجر کے وقت روزے کی نیت کر لیں لیکن جب روزہ کو باقی رکھنا ان کے لیے برداشت سے باہر ہو جائے تو افطار کرلیں اور اتنی مقدار میں آب و غذا سے استفادہ کریں جتنی ضروری ہو۔ بعد میں اس روزے کی قضا کریں کفارہ ان پر واجب نہیں ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
10 جولائی 2013 - 19:30
News ID: 439515
وہ افراد جن کے لیے لمبے دن میں روزہ رکھنا ناقابل برداشت ہے انہیں چاہیے کہ سفر اختیار کریں یا یہ کہ طلوع فجر کے وقت روزے کی نیت کر لیں لیکن جب روزہ کو باقی رکھنا ان کے لیے برداشت سے باہر ہو جائے تو افطار کرلیں اور اتنی مقدار میں آب و غذا سے استفادہ کریں جتنی ضروری ہو۔ بعد میں اس روزے کی قضا کریں کفارہ ان پر واجب نہیں ہو گا۔