4 جولائی 2013 - 19:30
بولیویا کے صدر : ہمیں امریکہ کی کوئی ضرورت نہیں

بولیویا کے صدر مورالس نے کہا ہے کہ ہمیں اپنے ملک میں امریکہ کے سفارتخانے کی کوئي ضرورت نہیں ہے۔

ابنا: صدر مورالس نے لاطینی امریکہ کے ملکوں کی حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یورپی ملکوں کی معافی کافی نہیں ہے اور اس سے کوئي فائدہ نہیں ہوگا۔  انہوں نے کہاکہ بعض یورپی حکومتوں نے کہا ہےکہ غلطی ہوئي ہے لیکن کوئي غلطی نہیں ہوئي تھی بلکہ انہوں نے ہم پر اپنی فضائي حدود بند کرکے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بولیویا کو امریکی سفارتخانے کی ضرورت نہیں ہے اور ہمیں لاطینی امریکہ کے ملکوں کی حمایت حاصل ہے۔  صدر مورالس نے کہا کہ امریکی سفارتخانے کو بند کرنے کا حکم جاری کرتے  ہوئے میرے ہاتھ نہيں کانپیں گے اور ہم خود مختار ہیں اور اقتدار اعلی و ارضی سالمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ کے بغیر جمہوریت اور سیاسی لحاظ سے بہتر پوزیشن میں رہیں گے۔  قابل ذکرہے جمعرات کو ارجنٹائين، ونزوئيلا، ایکواڈور، اور اورگوئے کے سربراہان بولیویا کے شہر کو چمبا میں جمع ہوئے تھے تا کہ بولیویا کے صدر کےساتھ یکجہتی کا اظہار کرسکیں۔ بولیویا کے صدر مورالس نے کہا کہ جب وہ ماسکو سے لوٹ رہے تھے تو فرانس، اسپین، پرتگال اور اٹلی نے امریکہ کے کہنے پر ان کے طیارے کےلئے اپنی فضائي حدود بند کردی تھیں جسکی وجہ سے انہیں ہنگامی طور پر آسٹریامیں اترنا پڑاتھا۔  ان یورپی ملکوں نے امریکہ کے اس شک پر کہ صدر مورالس کے طیارے میں ایڈورڈ اسنوڈن ہوسکتا ہے ان کے طیارے کے لئے اپنی فضائي حدود بند کردی تھیں۔ ایڈورد اسنوڈن نے امریکہ کے عالمی جاسوسی کے منصوبے کا راز فاش کیا ہے اور اب روس میں پناہ گزیں ہے۔  ماہرین کاخیال ہے کہ امریکہ اور بعض یورپی ملکوں کے اس اقدام سے ان کی صدیوں پرانی سامراجی طبیعت کا اظہار ہوتا ہے۔ادھر اطلاعات ہیں کہ بولیویا کے عوام نے آج احتجاجی مظاہرہ کرکے ان کے صدر کے طیارے کاراستہ بند کرنے پر امریکہ اور یورپی ملکوں کی مذمت کی ہے۔ بولیویا کے عوام نے امریکی کونسلیٹ کے دروازوں پر نعرے لکھ کر امریکیوں سے بولیونیا چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ...../169