ابنا: اس سلسلے میں میشل سلیمان نے امریکہ کے نائب وزیر خارجہ ویلیم برنز سے ملاقات میں کہا ہے کہ لبنان میں رونما ہونے والے واقعات میں عالمی برادری براہ راست ذمہ دار ہے ۔ لبنانی صدر میشل سلیمان نےامریکہ کے نائب وزیر خارجہ سے ملاقات میں شدید لہجے میں لبنان کی سلامتی کے خلاف پش آنے والے واقعات میں عالمی برادری کوذمہ دارٹھہرا یا ہے ، لبنان سے شائع ہونے والے الجمہوریہ اخبار نے اس بارے میں لکھا ہےکہ لبنانی صدر میشل سلیمان نےامریکہ کے نائب وزیر خارجہ ویلیم برنزسے ملاقات میں کہا ہے کہ امریکہ لبنان کے خلاف اپنی پالیسیوں کو ختم کرے کیونکہ سیکورٹی کے ایسے حالات میں لبنان کے بارے میں نمائشی بیانات دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ میشل سلیمان نے امریکی وفد سے کہا ہے کہ لبنان کے حالات کے بارے میں عالمی برادری براہ راست ذمہ دار ہے ۔ ادھر حزب اللہ لبنان کے نائب سربراہ صیہونی حکومت کے خلاف استقامت کے جاری رہنے پر تاکید کی ہے ۔
اس سلسلے میں شیخ نعیم قاسم نے آج بدھ کے دن بیروت میں اسلام اور تکفیریوں کے فتنہ کے بارے میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں کہا ہے کہ حزب اللہ امریکہ اور صیہونی حکومت کی سازشوں کے مقابلے میں برابر ڈٹی ہوئی ہے ۔شیخ نعیم قاسم نے حالیہ دنوں میں حزب اللہ کے خلاف امریکہ کے نائب وزیر خارجہ کے بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ اسرائیل ، امریکہ اور تکفیریوں کے لئے ایک بڑی رکاوٹ ہے ۔ انھوں نے یہ تاکید کرتے ہوئے کہ تکفیری گروہ بین الاقوامی فریب میں آکر کام کررہا ہے کہا کہ منجملہ علاقے میں استقامت کے ایک اہم محور کے رکن کی حیثیت سے وہ شام کے خلاف لڑرہا ہے ۔ یہ ایسے وقت ہے کہ لبنان میں حزب توحید عربی نے بھی امریکہ کے نائب وزیر خارجہ کے لبنان کے سفرکی مذمت کرتے ہوئے اس سفرکو لبنان میں امریکہ کی مداخلت پسندانہ اور فتنہ انگيز اقدامات قرار دیا ہے ، حزب توحید عربی نے ایک بیان جاری کرکے لبنان میں ویلیم برنزکے سفر کو فتنہ انگیزاقدام قرار دیا اورتاکید کی ہے کہ یہ سفر بھی لبنان کے داخلی امورمیں مداخلت پسندانہ روش سے ہٹ کر نہیں ہے ۔حزب توحید عربی لبنان نے کہا ہے کہ واشنگٹن لبنان کو فتنہ کے دلدل میں ڈھکیلنا چاہتا ہے تاکہ اس طرح سے حزب اللہ کونشانہ بنایاجاسکے ، اس حزب نے مزید لکھا ہے کہ ہم نےکبھی بھی ویلیم برنزکو شام کے دہشت گردوں کی طرف سے لبنان کے بعلبک یا ہرمل علاقوں میں میزائلوں کی بوچھار کی مذمت کرتے ہوئے نہیں سنا یا یہ کہ فتنہ پھلانے والوں کی طرابلس ، عکار اورعرسال کوشام کے خلاف سازش کے مرکز میں تبدیل کرنے پر مذمت کی ہو ۔ حزب توحید لبنان نے تاکید کی ہے کہ برنزکا لبنان کا سفر لبنان اور شام کے خلاف سازش کے حلقے کو مضبوط کرنااوراسرائیل کے مقابلے میں ڈیٹیرنٹ طاقت کو توڑنے نیز لبنان میں فتنہ پھیلا کر حزب اللہ کو نقصان پہونچانا ہے ۔ امریکہ ان حربوں کو استعمال کرکے خطے میں نئے مشرق وسطی کا نقشہ مسلط اور ایک ملک کے رہنے والوں کے درمیان فتنہ پھیلاکر تفرقہ ڈالنا چاہتا ہے ۔
لبنان کی "المردہ تحریک کے سربراہ سلمیان فرنجیہ نے بھی اہل تشیع اور اہل تسنن کے درمیان امریکہ ، اسرائیل اور مغربی ممالک کی طرف سے تفرقہ ڈالنے کی سازشوں کی بابت خبر دار کیا ہے ۔
سلیمان فرنجیہ جو لبنان کی پارلیمنٹ کے رکن بھی ہیں ایک بیان میں کہا ہے کہ مغرب نے لبنان میں اہل تشیع اور اہل تسنن سمیت مختلف قبیلوں اور گروہوں کے درمیان تفرقہ ڈال کر لبنان کو نقصان پہونچانے کے لئے ایسے منصوبے تیارکررکھے ہیں جو کسی بھی طرح سے اہل تشیع اور اہل تسنن کے حق میں نہیں ہیں ۔ سلیمان فرنجیہ نے اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کے ہتھیاروں کے بارے میں کہا کہ یہ ہتھیار لبنان کی حاکمیت کے دفاع کے لئے استعمال ہوں گے اور ان ہتھیاروں کے ذریعہ دشمنوں کا ڈٹ کرمقابلہ کیا جاسکتا ہے ۔
حالیہ دنوں میں لبنان میں امریکہ کے مداخلت پسندانہ اقدامات کے خلاف لبنانیوں نے شدید رد عمل کا اظہارکیا ہے ۔ اس سلسلے میں میشل سلیمان نے امریکہ کے نائب وزیر خارجہ ویلیم برنز سے ملاقات میں کہا ہے کہ لبنان میں رونما ہونے والے واقعات میں عالمی برادری براہ راست ذمہ دار ہے ۔ لبنانی صدر میشل سلیمان نےامریکہ کے نائب وزیر خارجہ سے ملاقات میں شدید لہجے میں لبنان کی سلامتی کے خلاف پش آنے والے واقعات میں عالمی برادری کوذمہ دارٹھہرا یا ہے ، لبنان سے شائع ہونے والے الجمہوریہ اخبار نے اس بارے میں لکھا ہےکہ لبنانی صدر میشل سلیمان نےامریکہ کے نائب وزیر خارجہ ویلیم برنزسے ملاقات میں کہا ہے کہ امریکہ لبنان کے خلاف اپنی پالیسیوں کو ختم کرے کیونکہ سیکورٹی کے ایسے حالات میں لبنان کے بارے میں نمائشی بیانات دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ میشل سلیمان نے امریکی وفد سے کہا ہے کہ لبنان کے حالات کے بارے میں عالمی برادری براہ راست ذمہ دار ہے ۔ ادھر حزب اللہ لبنان کے نائب سربراہ صیہونی حکومت کے خلاف استقامت کے جاری رہنے پر تاکید کی ہے ۔
اس سلسلے میں شیخ نعیم قاسم نے آج بدھ کے دن بیروت میں اسلام اور تکفیریوں کے فتنہ کے بارے میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں کہا ہے کہ حزب اللہ امریکہ اور صیہونی حکومت کی سازشوں کے مقابلے میں برابر ڈٹی ہوئی ہے ۔شیخ نعیم قاسم نے حالیہ دنوں میں حزب اللہ کے خلاف امریکہ کے نائب وزیر خارجہ کے بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ اسرائیل ، امریکہ اور تکفیریوں کے لئے ایک بڑی رکاوٹ ہے ۔ انھوں نے یہ تاکید کرتے ہوئے کہ تکفیری گروہ بین الاقوامی فریب میں آکر کام کررہا ہے کہا کہ منجملہ علاقے میں استقامت کے ایک اہم محور کے رکن کی حیثیت سے وہ شام کے خلاف لڑرہا ہے ۔ یہ ایسے وقت ہے کہ لبنان میں حزب توحید عربی نے بھی امریکہ کے نائب وزیر خارجہ کے لبنان کے سفرکی مذمت کرتے ہوئے اس سفرکو لبنان میں امریکہ کی مداخلت پسندانہ اور فتنہ انگيز اقدامات قرار دیا ہے ، حزب توحید عربی نے ایک بیان جاری کرکے لبنان میں ویلیم برنزکے سفر کو فتنہ انگیزاقدام قرار دیا اورتاکید کی ہے کہ یہ سفر بھی لبنان کے داخلی امورمیں مداخلت پسندانہ روش سے ہٹ کر نہیں ہے ۔حزب توحید عربی لبنان نے کہا ہے کہ واشنگٹن لبنان کو فتنہ کے دلدل میں ڈھکیلنا چاہتا ہے تاکہ اس طرح سے حزب اللہ کونشانہ بنایاجاسکے ، اس حزب نے مزید لکھا ہے کہ ہم نےکبھی بھی ویلیم برنزکو شام کے دہشت گردوں کی طرف سے لبنان کے بعلبک یا ہرمل علاقوں میں میزائلوں کی بوچھار کی مذمت کرتے ہوئے نہیں سنا یا یہ کہ فتنہ پھلانے والوں کی طرابلس ، عکار اورعرسال کوشام کے خلاف سازش کے مرکز میں تبدیل کرنے پر مذمت کی ہو ۔ حزب توحید لبنان نے تاکید کی ہے کہ برنزکا لبنان کا سفر لبنان اور شام کے خلاف سازش کے حلقے کو مضبوط کرنااوراسرائیل کے مقابلے میں ڈیٹیرنٹ طاقت کو توڑنے نیز لبنان میں فتنہ پھیلا کر حزب اللہ کو نقصان پہونچانا ہے ۔ امریکہ ان حربوں کو استعمال کرکے خطے میں نئے مشرق وسطی کا نقشہ مسلط اور ایک ملک کے رہنے والوں کے درمیان فتنہ پھیلاکر تفرقہ ڈالنا چاہتا ہے ۔
لبنان کی "المردہ تحریک کے سربراہ سلمیان فرنجیہ نے بھی اہل تشیع اور اہل تسنن کے درمیان امریکہ ، اسرائیل اور مغربی ممالک کی طرف سے تفرقہ ڈالنے کی سازشوں کی بابت خبر دار کیا ہے ۔
سلیمان فرنجیہ جو لبنان کی پارلیمنٹ کے رکن بھی ہیں ایک بیان میں کہا ہے کہ مغرب نے لبنان میں اہل تشیع اور اہل تسنن سمیت مختلف قبیلوں اور گروہوں کے درمیان تفرقہ ڈال کر لبنان کو نقصان پہونچانے کے لئے ایسے منصوبے تیارکررکھے ہیں جو کسی بھی طرح سے اہل تشیع اور اہل تسنن کے حق میں نہیں ہیں ۔ سلیمان فرنجیہ نے اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کے ہتھیاروں کے بارے میں کہا کہ یہ ہتھیار لبنان کی حاکمیت کے دفاع کے لئے استعمال ہوں گے اور ان ہتھیاروں کے ذریعہ دشمنوں کا ڈٹ کرمقابلہ کیا جاسکتا ہے ۔
.....
/169
اس سلسلے میں شیخ نعیم قاسم نے آج بدھ کے دن بیروت میں اسلام اور تکفیریوں کے فتنہ کے بارے میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں کہا ہے کہ حزب اللہ امریکہ اور صیہونی حکومت کی سازشوں کے مقابلے میں برابر ڈٹی ہوئی ہے ۔شیخ نعیم قاسم نے حالیہ دنوں میں حزب اللہ کے خلاف امریکہ کے نائب وزیر خارجہ کے بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ اسرائیل ، امریکہ اور تکفیریوں کے لئے ایک بڑی رکاوٹ ہے ۔ انھوں نے یہ تاکید کرتے ہوئے کہ تکفیری گروہ بین الاقوامی فریب میں آکر کام کررہا ہے کہا کہ منجملہ علاقے میں استقامت کے ایک اہم محور کے رکن کی حیثیت سے وہ شام کے خلاف لڑرہا ہے ۔ یہ ایسے وقت ہے کہ لبنان میں حزب توحید عربی نے بھی امریکہ کے نائب وزیر خارجہ کے لبنان کے سفرکی مذمت کرتے ہوئے اس سفرکو لبنان میں امریکہ کی مداخلت پسندانہ اور فتنہ انگيز اقدامات قرار دیا ہے ، حزب توحید عربی نے ایک بیان جاری کرکے لبنان میں ویلیم برنزکے سفر کو فتنہ انگیزاقدام قرار دیا اورتاکید کی ہے کہ یہ سفر بھی لبنان کے داخلی امورمیں مداخلت پسندانہ روش سے ہٹ کر نہیں ہے ۔حزب توحید عربی لبنان نے کہا ہے کہ واشنگٹن لبنان کو فتنہ کے دلدل میں ڈھکیلنا چاہتا ہے تاکہ اس طرح سے حزب اللہ کونشانہ بنایاجاسکے ، اس حزب نے مزید لکھا ہے کہ ہم نےکبھی بھی ویلیم برنزکو شام کے دہشت گردوں کی طرف سے لبنان کے بعلبک یا ہرمل علاقوں میں میزائلوں کی بوچھار کی مذمت کرتے ہوئے نہیں سنا یا یہ کہ فتنہ پھلانے والوں کی طرابلس ، عکار اورعرسال کوشام کے خلاف سازش کے مرکز میں تبدیل کرنے پر مذمت کی ہو ۔ حزب توحید لبنان نے تاکید کی ہے کہ برنزکا لبنان کا سفر لبنان اور شام کے خلاف سازش کے حلقے کو مضبوط کرنااوراسرائیل کے مقابلے میں ڈیٹیرنٹ طاقت کو توڑنے نیز لبنان میں فتنہ پھیلا کر حزب اللہ کو نقصان پہونچانا ہے ۔ امریکہ ان حربوں کو استعمال کرکے خطے میں نئے مشرق وسطی کا نقشہ مسلط اور ایک ملک کے رہنے والوں کے درمیان فتنہ پھیلاکر تفرقہ ڈالنا چاہتا ہے ۔
لبنان کی "المردہ تحریک کے سربراہ سلمیان فرنجیہ نے بھی اہل تشیع اور اہل تسنن کے درمیان امریکہ ، اسرائیل اور مغربی ممالک کی طرف سے تفرقہ ڈالنے کی سازشوں کی بابت خبر دار کیا ہے ۔
سلیمان فرنجیہ جو لبنان کی پارلیمنٹ کے رکن بھی ہیں ایک بیان میں کہا ہے کہ مغرب نے لبنان میں اہل تشیع اور اہل تسنن سمیت مختلف قبیلوں اور گروہوں کے درمیان تفرقہ ڈال کر لبنان کو نقصان پہونچانے کے لئے ایسے منصوبے تیارکررکھے ہیں جو کسی بھی طرح سے اہل تشیع اور اہل تسنن کے حق میں نہیں ہیں ۔ سلیمان فرنجیہ نے اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کے ہتھیاروں کے بارے میں کہا کہ یہ ہتھیار لبنان کی حاکمیت کے دفاع کے لئے استعمال ہوں گے اور ان ہتھیاروں کے ذریعہ دشمنوں کا ڈٹ کرمقابلہ کیا جاسکتا ہے ۔
حالیہ دنوں میں لبنان میں امریکہ کے مداخلت پسندانہ اقدامات کے خلاف لبنانیوں نے شدید رد عمل کا اظہارکیا ہے ۔ اس سلسلے میں میشل سلیمان نے امریکہ کے نائب وزیر خارجہ ویلیم برنز سے ملاقات میں کہا ہے کہ لبنان میں رونما ہونے والے واقعات میں عالمی برادری براہ راست ذمہ دار ہے ۔ لبنانی صدر میشل سلیمان نےامریکہ کے نائب وزیر خارجہ سے ملاقات میں شدید لہجے میں لبنان کی سلامتی کے خلاف پش آنے والے واقعات میں عالمی برادری کوذمہ دارٹھہرا یا ہے ، لبنان سے شائع ہونے والے الجمہوریہ اخبار نے اس بارے میں لکھا ہےکہ لبنانی صدر میشل سلیمان نےامریکہ کے نائب وزیر خارجہ ویلیم برنزسے ملاقات میں کہا ہے کہ امریکہ لبنان کے خلاف اپنی پالیسیوں کو ختم کرے کیونکہ سیکورٹی کے ایسے حالات میں لبنان کے بارے میں نمائشی بیانات دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ میشل سلیمان نے امریکی وفد سے کہا ہے کہ لبنان کے حالات کے بارے میں عالمی برادری براہ راست ذمہ دار ہے ۔ ادھر حزب اللہ لبنان کے نائب سربراہ صیہونی حکومت کے خلاف استقامت کے جاری رہنے پر تاکید کی ہے ۔
اس سلسلے میں شیخ نعیم قاسم نے آج بدھ کے دن بیروت میں اسلام اور تکفیریوں کے فتنہ کے بارے میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں کہا ہے کہ حزب اللہ امریکہ اور صیہونی حکومت کی سازشوں کے مقابلے میں برابر ڈٹی ہوئی ہے ۔شیخ نعیم قاسم نے حالیہ دنوں میں حزب اللہ کے خلاف امریکہ کے نائب وزیر خارجہ کے بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ اسرائیل ، امریکہ اور تکفیریوں کے لئے ایک بڑی رکاوٹ ہے ۔ انھوں نے یہ تاکید کرتے ہوئے کہ تکفیری گروہ بین الاقوامی فریب میں آکر کام کررہا ہے کہا کہ منجملہ علاقے میں استقامت کے ایک اہم محور کے رکن کی حیثیت سے وہ شام کے خلاف لڑرہا ہے ۔ یہ ایسے وقت ہے کہ لبنان میں حزب توحید عربی نے بھی امریکہ کے نائب وزیر خارجہ کے لبنان کے سفرکی مذمت کرتے ہوئے اس سفرکو لبنان میں امریکہ کی مداخلت پسندانہ اور فتنہ انگيز اقدامات قرار دیا ہے ، حزب توحید عربی نے ایک بیان جاری کرکے لبنان میں ویلیم برنزکے سفر کو فتنہ انگیزاقدام قرار دیا اورتاکید کی ہے کہ یہ سفر بھی لبنان کے داخلی امورمیں مداخلت پسندانہ روش سے ہٹ کر نہیں ہے ۔حزب توحید عربی لبنان نے کہا ہے کہ واشنگٹن لبنان کو فتنہ کے دلدل میں ڈھکیلنا چاہتا ہے تاکہ اس طرح سے حزب اللہ کونشانہ بنایاجاسکے ، اس حزب نے مزید لکھا ہے کہ ہم نےکبھی بھی ویلیم برنزکو شام کے دہشت گردوں کی طرف سے لبنان کے بعلبک یا ہرمل علاقوں میں میزائلوں کی بوچھار کی مذمت کرتے ہوئے نہیں سنا یا یہ کہ فتنہ پھلانے والوں کی طرابلس ، عکار اورعرسال کوشام کے خلاف سازش کے مرکز میں تبدیل کرنے پر مذمت کی ہو ۔ حزب توحید لبنان نے تاکید کی ہے کہ برنزکا لبنان کا سفر لبنان اور شام کے خلاف سازش کے حلقے کو مضبوط کرنااوراسرائیل کے مقابلے میں ڈیٹیرنٹ طاقت کو توڑنے نیز لبنان میں فتنہ پھیلا کر حزب اللہ کو نقصان پہونچانا ہے ۔ امریکہ ان حربوں کو استعمال کرکے خطے میں نئے مشرق وسطی کا نقشہ مسلط اور ایک ملک کے رہنے والوں کے درمیان فتنہ پھیلاکر تفرقہ ڈالنا چاہتا ہے ۔
لبنان کی "المردہ تحریک کے سربراہ سلمیان فرنجیہ نے بھی اہل تشیع اور اہل تسنن کے درمیان امریکہ ، اسرائیل اور مغربی ممالک کی طرف سے تفرقہ ڈالنے کی سازشوں کی بابت خبر دار کیا ہے ۔
سلیمان فرنجیہ جو لبنان کی پارلیمنٹ کے رکن بھی ہیں ایک بیان میں کہا ہے کہ مغرب نے لبنان میں اہل تشیع اور اہل تسنن سمیت مختلف قبیلوں اور گروہوں کے درمیان تفرقہ ڈال کر لبنان کو نقصان پہونچانے کے لئے ایسے منصوبے تیارکررکھے ہیں جو کسی بھی طرح سے اہل تشیع اور اہل تسنن کے حق میں نہیں ہیں ۔ سلیمان فرنجیہ نے اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کے ہتھیاروں کے بارے میں کہا کہ یہ ہتھیار لبنان کی حاکمیت کے دفاع کے لئے استعمال ہوں گے اور ان ہتھیاروں کے ذریعہ دشمنوں کا ڈٹ کرمقابلہ کیا جاسکتا ہے ۔
.....
/169