ابنا: نوری مالکی نے عراق میں سابق امریکی جنرل کمانڈر جارج کیسی کے گذشتہ روز کے اس بیان کو کہ دوہزار چھہ میں سامراء میں حضرت امام حسن عسکری اور حضرت امام علی نقی علیہ السلام کے روضہائے مقدس کو بم دھماکے سے اڑانے میں ایران کا ہاتھ ہے تمسخر آمیز قرار دیتے ہوئے کہاکہ جنرل کیسی نے پیریس میں دہشت گرد گروہ منافقین کے اجلاس میں یہ جو کہا ہے کہ عراق کے وزیر اعظم مالکی نے انھیں خبر دی ہے کہ سامراء کے دھماکے میں ایران کا ہاتھ ہے جھوٹ ہے ۔ نوری مالکی نے کہا ہے کہ جیساکہ دوہزار چھہ میں سامراء میں دھماکے کے بعد اعلان کیا گیا کہ یہ دھماکہ القاعدہ نے کیا ہے اور اس دہشت گرد گروہ نے جسے بعض علاقائی ممالک کی حمایت حاصل ہے اسی دن ایک بیان جاری کرکے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی ۔نوری مالکی نے کہا کہ ایسے حالات میں ہم امریکی حکام سے چاہتے ہیں کہ وہ ان امریکی عہدیداروں کو جو پہلے عراق میں کام کرتے تھے عراق اور علاقے کے ملکوں کے بارے میں تفرقہ ڈالنے اور جھوٹ بولنے سے روکیں ۔ بغداد میں ایرانی سفارت نے بھی سامراء کے دھماکے میں ایران کی مداخلت کے سلسلے میں عراق میں سابق امریکی جنرل کیسی کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے اس الزام کو تفرقہ ڈالنے اور عراق میں امریکہ کو ان ناروا اعمال سے بری کرنے کا مقصد قراردیا ہےجو اس نے انجام دئیے ہیں ۔ ایران کے بیان میں آیا ہے کہ عراق پردوہزار تین سے دوہزار گیارہ تک امریکی قبضے دوران امریکی فوجی عراقی شہریوں کے خلاف ہزاروں جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں جن کے آثار اب تک موجود ہیں ، جارج کیسی نے دو دن قبل ایسے وقت ایران پر شہر سامراء کے دھماکوں کاالزام لگایا ہے کہ عراقی شہریوں کے بعد گذشتہ دس برسوں میں عراق میں ایران کے کافی لوگ امریکہ اور دہشت گردوں کی مشترکہ مہم جوئی اور دہشت گردانہ کاروائیوں کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں اورسیکڑوں ایرانی زائرین عراق کے مذھبی شہروں کربلا ،نجف اور سامراء میں شہید ہوچکے ہیں۔ عراق کے حالیہ دہشت گردانہ حملوں میں خاص طورپر پندرہ شعبان امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی والادت باسعادت کے دن بغداد کے شمال میں پندرہ ایرانی زائر شہید اور چوالیس زخمی ہوئے ۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے بارہا علاقے میں دہشت گردوں کی حمایت کرنے والوں کو قانونی نیز بین الااقوامی ذمہ داریوں کی یاد دھانی کرائی ہے ۔ دہشت گردوں کی حمایت اور انھیں مختلف ہتھیاروں سے لیس کرنے والوں کے خلاف مقدمہ کرنے کا ایران اورعراق کی حکومت اور ملت کاحق محفوظ ہے ۔ البتہ اسلامی جمہوریہ ایران جانتا ہے کہ حکومت عراق امریکہ کے قبضے کے بعد سے قبائلی اور فرقہ وارانہ جیسے بہت مسائل اور مشکلات سے دوچار ہے لیکن پھر ایران کو امیدہے کہ عراق ملک میں امن خاص طورپر عراقی حکام کی اجازت اور ہم آہنگی سے آنے والے زائرین کے مال وجان کی حفاظت اور امن واستحکام کو ضرور ترجیح دےگا ، چنانچہ مجلس اعلی عراق کے سربراہ سید عمار حکیم نے حالیہ دنوں میں اس ملک کے سیاسی بحران کو حل کرنے کی کوشش کے سلسلے میں جوکانفرنس منعقد ہوئی تھی کہا تھاکہ دہشت گردي جو اپنی تمام تر شکلوں اور پہلؤں کے ساتھ عراق کےعام شہریوں اور سیاسی گرہوں کو نشانہ بنارہی ہے ، لہذا عراق کے تمام لوگوں کو چاہئیے کہ وہ دہشت گردوں اور ان افراد کے سامنے ڈٹ جا نا چاہئیے جوعراق کے ٹکڑے اور ہمسایہ ملکوں اور عراق کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔عراق کے وزیر اعظم نوری مالکی نے عراق میں سابق امریکی کمانڈر کے اس دعوی کو مسترد کرتے ہوئے کہ سامرا ء میں امام حسن عسکری اورامام علی نقی علیہ السلام کے روضہائے مقدس کو بم سے اڑانے میں ایران کا ہاتھ ہے امریکی حکام پر جھوٹ اور تفرقہ ڈالنے کا الزام لگایا ہے ۔ بغداد سے ہمارے نمایندے کی رپورٹ کے مطابق نوری مالکی نے عراق میں سابق امریکی جنرل کمانڈر جارج کیسی کے گذشتہ روز کے اس بیان کو کہ دوہزار چھہ میں سامراء میں حضرت امام حسن عسکری اور حضرت امام علی نقی علیہ السلام کے روضہائے مقدس کو بم دھماکے سے اڑانے میں ایران کا ہاتھ ہے تمسخر آمیز قرار دیتے ہوئے کہاکہ جنرل کیسی نے پیریس میں دہشت گرد گروہ منافقین کے اجلاس میں یہ جو کہا ہے کہ عراق کے وزیر اعظم مالکی نے انھیں خبر دی ہے کہ سامراء کے دھماکے میں ایران کا ہاتھ ہے جھوٹ ہے ۔ نوری مالکی نے کہا ہے کہ جیساکہ دوہزار چھہ میں سامراء میں دھماکے کے بعد اعلان کیا گیا کہ یہ دھماکہ القاعدہ نے کیا ہے اور اس دہشت گرد گروہ نے جسے بعض علاقائی ممالک کی حمایت حاصل ہے اسی دن ایک بیان جاری کرکے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی ۔نوری مالکی نے کہا کہ ایسے حالات میں ہم امریکی حکام سے چاہتے ہیں کہ وہ ان امریکی عہدیداروں کو جو پہلے عراق میں کام کرتے تھے عراق اور علاقے کے ملکوں کے بارے میں تفرقہ ڈالنے اور جھوٹ بولنے سے روکیں ۔ بغداد میں ایرانی سفارت نے بھی سامراء کے دھماکے میں ایران کی مداخلت کے سلسلے میں عراق میں سابق امریکی جنرل کیسی کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے اس الزام کو تفرقہ ڈالنے اور عراق میں امریکہ کو ان ناروا اعمال سے بری کرنے کا مقصد قراردیا ہےجو اس نے انجام دئیے ہیں ۔ ایران کے بیان میں آیا ہے کہ عراق پردوہزار تین سے دوہزار گیارہ تک امریکی قبضے دوران امریکی فوجی عراقی شہریوں کے خلاف ہزاروں جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں جن کے آثار اب تک موجود ہیں ، جارج کیسی نے دو دن قبل ایسے وقت ایران پر شہر سامراء کے دھماکوں کاالزام لگایا ہے کہ عراقی شہریوں کے بعد گذشتہ دس برسوں میں عراق میں ایران کے کافی لوگ امریکہ اور دہشت گردوں کی مشترکہ مہم جوئی اور دہشت گردانہ کاروائیوں کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں اورسیکڑوں ایرانی زائرین عراق کے مذھبی شہروں کربلا ،نجف اور سامراء میں شہید ہوچکے ہیں۔ عراق کے حالیہ دہشت گردانہ حملوں میں خاص طورپر پندرہ شعبان امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی والادت باسعادت کے دن بغداد کے شمال میں پندرہ ایرانی زائر شہید اور چوالیس زخمی ہوئے ۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے بارہا علاقے میں دہشت گردوں کی حمایت کرنے والوں کو قانونی نیز بین الااقوامی ذمہ داریوں کی یاد دھانی کرائی ہے ۔ دہشت گردوں کی حمایت اور انھیں مختلف ہتھیاروں سے لیس کرنے والوں کے خلاف مقدمہ کرنے کا ایران اورعراق کی حکومت اور ملت کاحق محفوظ ہے ۔ البتہ اسلامی جمہوریہ ایران جانتا ہے کہ حکومت عراق امریکہ کے قبضے کے بعد سے قبائلی اور فرقہ وارانہ جیسے بہت مسائل اور مشکلات سے دوچار ہے لیکن پھر ایران کو امیدہے کہ عراق ملک میں امن خاص طورپر عراقی حکام کی اجازت اور ہم آہنگی سے آنے والے زائرین کے مال وجان کی حفاظت اور امن واستحکام کو ضرور ترجیح دےگا ، چنانچہ مجلس اعلی عراق کے سربراہ سید عمار حکیم نے حالیہ دنوں میں اس ملک کے سیاسی بحران کو حل کرنے کی کوشش کے سلسلے میں جوکانفرنس منعقد ہوئی تھی کہا تھاکہ دہشت گردي جو اپنی تمام تر شکلوں اور پہلؤں کے ساتھ عراق کےعام شہریوں اور سیاسی گرہوں کو نشانہ بنارہی ہے ، لہذا عراق کے تمام لوگوں کو چاہئیے کہ وہ دہشت گردوں اور ان افراد کے سامنے ڈٹ جا نا چاہئیے جوعراق کے ٹکڑے اور ہمسایہ ملکوں اور عراق کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔...../169
1 جولائی 2013 - 19:30
News ID: 436129
عراق کے وزیر اعظم نوری مالکی نے عراق میں سابق امریکی کمانڈر کے اس دعوی کو مسترد کرتے ہوئے کہ سامرا ء میں امام حسن عسکری اورامام علی نقی علیہ السلام کے روضہائے مقدس کو بم سے اڑانے میں ایران کا ہاتھ ہے امریکی حکام پر جھوٹ اور تفرقہ ڈالنے کا الزام لگایا ہے ۔