1 جولائی 2013 - 19:30
جی ای سی ایف کے اجلاس سے صدر کا خطاب

صدر احمدي نژاد نے گيس برآمد کرنے والے ملکوں کي تنظيم جي اي سي ايف کے قيام کو توانائي کي عالمي منڈي ميں منصفانہ شراکت داري کے لئے ضروري قرار ديا ہے-

ابنا: يہ بات انہوں نے پير کي شام ماسکو ميں تنطيم کي مجلس عاملہ کے دوسرے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہي-
صدر احمدي نژاد کا کہنا تھا کہ توانائي کي عالمي منڈي پر استعماري سوچ رکھنے والے ملکوں کي اجارہ داري قائم ہے –
انہوں نے کہا کہ ان ممالک نے  سياسي اور اقتصادي  فيصلہ سازي کے عالمي مراکز پر قائم اپني اجارہ داري کے ذريعے  تعصبات، غربت  اور بدامني کو بڑے پيمانے پر فروغ ديا ہے-
صدر احمدي نژاد کا کہنا تھا کہ توانائي کي عالمي منڈي ميں منصفانہ مشارکت کے لئے گيس برآمد کرنے والے ملکوں کي تنظيم کا قيام انتہائي ضروري تھا-
ڈاکٹر احمدي نژاد کا  کہنا تھا کہ اقتصادي اور سياسي معاملات ميں توانائي کا کردار انتہائي اہميت کا حامل ہے-
انہوں نے کہا کہ فوسل فيول کي پيداوار، طلب و رسد کے درميان توازن شروع ہي سے عالمي اقتصادي اور سياسي معاملات پر اثرانداز ہوتا  رہا ہے-
گيس برآمد کرنے والے ملکوں کي تنظيم کے دوسرے سربراہي اجلاس ميں گيس انڈسٹري کي موجودہ صورتحال، عالمي اقتصادي بحران اور عالمي منڈي ميں گيس کي طلب ميں ہونے والے اضافے پر غور کيا جائے گا-
اسلامي جمہوريہ ايران، الجزائر، بوليويا، مصر، استوائي گني، ليبيا، نائيجيريا، قطر، روس، ٹرينيڈاڈ، ٹوبيکو، وينيز ويلا اور عمان ، اس تنطيم کي مجلس عاملہ کے رکن ہيں-

ہالينڈ، قزاقستان   اور نارورے کو مبصر کا درجہ ديئے جانے کا امکان ہے جبکہ عراق بھي مبصر کي حثيت سے اس تنطيم ميں شامل ہوگيا ہے-
.......
/169