1 جولائی 2013 - 19:30
شہید ہونا ہے لیکن مقابلہ تو کرو

شہید ہونا ہے لیکن مقابلہ تو کرو جو کربلا کے ستم تھے وہ تھے بڑے کے نہیںمصائب آپ کے تھے سامنے کڑے کے نہیںیزیدیت کے مقابل وہ تھے کھڑے کے نہیںحسین آخری لمحے تلک لڑے کے نہیںیزیدیوں سے لڑو ان کا سامنا تو کروشہید ہونا ہے لیکن مقابلہ تو کرویہ رسم کرب و بلا ہے اسے ادا تو کرو  جو حال اپنا ہے کہنا یہی مناسب ہےامام تو نہیں غائب عوام غائب ہےیزید فاسق و فاجر ہے اور غاصب ہےبچانا جان کو اپنا دفاع واجب ہےاٹھو حسینیو لڑنے کا حوصلہ تو کروشہید ہونا ہے لیکن مقابلہ تو کرویہ رسم کرب و بلا ہے اسے ادا تو کرو لڑا ضرور تھا ہر ایک ناصر سرورلہو میں ڈوب کے ہارے نہیں علی اکبرعجیب جنگ لڑے تشنہ لب علی اصغرعظیم کتنی تھی وہ جنگ  شاہ جن و بشرمدد کرینگے وفائوں کی ابتدا تو کروشہید ہونا ہے لیکن مقابلہ تو کرویہ رسم کرب و بلا ہے اسے ادا تو کرو حسین والوں یہ جانو یہ قیمتی ہے جاںمقابلے کیلے علم کا بھی ہے میداںہو جنگ کیلئے تیار آج ہر ساماںنہ دشمنوں کیلئے تم بنو حدف آساںہر محاذ پر انکا مقابلہ تو کروشہید ہونا ہے لیکن مقابلہ تو کرویہ رسم کرب و بلا ہے اسے ادا تو کرو عزائے شہ میں ابھرتے رہو درست ہے یہعلم اٹھا کے گزرتے رہو درست ہے یہعلی کے عشق میں مرتے رہو درست ہے یہدعا ظہور کی کرتے رہو درست ہے یہدعا تو ٹھیک ہے لیکن کوئی دوا تو کروشہید ہونا ہے لیکن مقابلہ تو کرویہ رسم کرب و بلا ہے اسے ادا تو کرو لڑے بغیر کوئی جنگ کیسے جیتیں گےمنافقین کی چالوں کو ہم بھی دیکھینگےگر ایک قتل ہوا سب کو ہم ہلادینگےیہ یاد رکھنا کے بدلہ ضرور ہم لینگےامام عصر کے آنے کی تم دعا تو کروشہید ہونا ہے لیکن مقابلہ تو کرویہ رسم کرب و بلا ہے اسے ادا تو کرو  ملے گی فتح عزادار کو کرو مضبوطغم حسین کے ہتھیار کو کرو مضبوطوفائے علم کی دیوار کو کرو مضبوطاگر ہے جیتنا کردار کو کرو مضبوطجو حق ہے جینے کا اس شان سے جیا تو کروشہید ہونا ہے لیکن مقابلہ تو کرویہ رسم کرب و بلا ہے اسے ادا تو کرو امام عصر کے مرکز سے اپنا دل جوڑوانہی کی نصرت دوراں کی سمت رخ موڑومفاد ذات سے نکلو غرور سب چھوڑوعلی کے ماننے والے انا کے بت توڑوملے گی فتح تمہیں خود سے ابتدا تو کرو شہید ہونا ہے لیکن مقابلہ تو کرویہ رسم کرب و بلا ہے اسے ادا تو کرو ہیں کوئٹہ میں کراچی میں مائیں محو بینعراق و شام مصیبت میں ہیں لہو بحرینہیں دندناتے ابھی پھرتے قاتلان حسینہو ساری قوم اکٹھی تو پھر ملے گا چینتم ایک بار شہیدوں سے رابطہ تو کروشہید ہونا ہے لیکن مقابلہ تو کرویہ رسم کرب و بلا ہے اسے ادا تو کرو ہنود کے ہیں یہ حربے یہود کی سازشوطن کی گلیوں میں ہوتی ہے خون کی بارشجواں کی لاش اٹھے ہاتھ میں نہ ہو لرزشظہور کیلئے کرنی ہے آخری کوششسہو نہ ظلم کو ظالم کو تم فنا تو کروشہید ہونا ہے لیکن مقابلہ تو کرویہ رسم کرب و بلا ہے اسے ادا تو کرو عزا کے فرش کی رونق شعور ممبر کااٹھائے ایک ہے بستہ عزائے سرور کاہے کون آج جو ناپے گا قد سمندر کاعزائے شاہ میں ہے ذکر سبط جعفر کایہ ذکر قرض ہے اس قرض کو ادا تو کروشہید ہونا ہے لیکن مقابلہ تو کرویہ رسم کرب و بلا ہے اسے ادا تو کرو ستم وہ ہم پے قمرؔ ڈھا رہے ہیں ہم خاموشہزار تیر ستم آرہے ہیں ہم خاموشاٹھا کے لاش ہر ایک لا رہے ہیں ہم خاموشعزا پہ وار کیئے جا رہے ہیں ہم خاموشجو ہو رہا ہے غلط اسکا کچھ گلہ تو کروشہید ہونا ہے لیکن مقابلہ تو کرویہ رسم کرب و بلا ہے اسے ادا تو کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲