ابنا: صدر مرسي نے اسي کے ساتھ کہا کہ مصر ميں اب دوسرا انقلاب نہيں آئے گا - انہوں نے کہا کہ پر امن مظاہرے کرنا عوام کا حق ہے ليکن بعض عناصر عوام کے مظاہروں کو تشدد کے راستے پر ڈال رہے ہيں –صدر مرسي نے دعوي کيا کہ ذرائع ابلاغ عامہ ان کے مخالفين کے مظاہروں کو بڑھا چڑھا کے پيش کررہے ہيں جس کا محرک مصرکے عوامي انقلاب کي دشمني ہے - دوسري جانب صدر مرسي کےمخالف نوجوانوں کے تحريک نے استعفے کے لئے صدر مرسي کو اڑتاليس گھنٹے کي مہلت دينے کا اعلان کيا ہے –صدر مرسي کے مخالف نوجوانوں کي تمرد نامي تحريک نے اتوار کي رات ايک بيان جاري کرکے اعلان کيا ہے کہ صدر مرسي کے پاس استعفے کے لئے منگل کي رات تک کا وقت ہے -تحريک تمرد، يعني شورش کي تحريک نے خبردار کيا ہے کہ اگر مرسي نے منگل کي رات تک اقتدار نہ چھوڑا تو ان کے خلاف ملک گير مظاہروں کي نئي لہر شروع کردي جائے گي-تحريک تمرد نے اپنے بيان ميں کہا ہے کہ يہ تحريک عارضي راہ حل اور وقتي مصالحت پر يقين نہيں رکھتي ليکن اقتدار سے اخوان المسلمين اور محمد مرسي کے پر امن طور پر ہٹنے کا خير مقدم کرے گي –يہ ايسي حالت ميں ہے کہ اتوار کو مرسي حکومت کي پہلي سالگرہ پر صدر مرسي کے حاميوں اور مخالفين کے درميان تصادم ميں گيارہ افراد ہلاک اور چھے سو سے زائد زخمي ہوئے ہيں –ايک رپورٹ ميں بتايا گيا ہے کہ بہت سے پوليس اہلکار بھي صدر مرسي کے مخالفين کي صفوں ميں شامل ہوگئے ہيں - الاخباريہ ٹي وي نے رپورٹ دي ہے کہ مصر کے مختلف صوبوں ميں بہت سے پوليس اہلکار بھي مخالف مظاہرين ميں شامل ہوگئے ہيں جن ميں متعدد اعلي افسران بھي ديکھے گئے ہيں –اس رپورٹ کے مطابق صدر مرسي کے مخالف مظاہروں ميں شامل ان پوليس اہلکاروں نے مصر کے وزير دفاع عبدالفتاح السيسي سے مطالبہ کيا ہے کہ صدر مرسي کے مخالفين کي حمايت ميں فوج کو مداخلت کا حکم ديں- مصر کے نيشنل سالويشن فرنٹ نے بھي فوج کي مداخلت کي ضرورت پر زور ديا ہے - فرانس پريس کے مطابق نيشنل سالويشن فرنٹ کے سينئر عہديدار حمدين صباح نے پير کے روز ايک بيان ميں کہا ہے کہ صدر مرسي کے سامنے دونوں راستے ہيں يا عوام کے مطالبات کو تسليم کريں يا مخالفت کريں –انہوں نے کہا کہ مرسي کي جانب سے عوامي مطالبات کي مخالفت کي صورت ميں فوج کو مداخلت کرنا چاہئے - انہوں نے کہا کہ جس طرح فوج نے دو ہزار گيارہ کے انقلاب کے دوران مداخلت کي تھي جو ڈکٹيٹر حسني مبارک کے اقتدار سے ہٹنے پر منتج ہوئي تھي، اسي طرح مرسي کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے بھي مداخلت کرنا چاہئے –انہوں نے کہا کہ صدر مرسي عوام کے مطالبات کو تسليم کرتے ہوئے اقتدار چھوڑ ديں تو يہ ان کے اور اخوان المسلمين ، دونوں کے حق ميں بہتر ہوگا –مصر کي النور پارٹي کے سربراہ نے بھي صدر مرسي سے مطالبہ کيا ہے کہ عوام کے مطالبات پر توجہ ديں –النور پارٹي کے سربراہ يونس مخيون نے اسي کے ساتھ صدر مرسي کے استعفے کے مطالبے کے بارے ميں کہا ہے کہ ان کے مخالفين نے ملک کے پہلے منتخب صدر کو ہٹانے کي کوشش کرکے غلط راستے کا انتخاب کيا ہے - انہوں نے کہا کہ صدر مرسي کو چاہئے کو مخالفين کو اپنے ساتھ ملانے کي کوشش کريں - انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ مخالفين کے سامنے جھکنا مشکل ہو ليکن ملک کو خون خرابے سے بچانے کے لئے ضروري ہے –انہوں نے کہا کہ صدر مرسي اس بار احتجاجي مظاہروں کے نتائج سے آساني سے بچ کر نہيں نکل پائيں گے حتي ممکن ہے کہ انہيں اپنا اقتدار باقي رکھنے کے لئے ريفرنڈم کرانا پڑے -النور پارٹي کے سربراہ نے اسي کے ساتھ نيشنل سالويشن فرنٹ پر سخت تنقيد کي اور ملک کو موجودہ بحراني حالات سے نکالنے کي ضرورت پر زور ديتے ہوئے کہا کہ صدر مرسي کو چاہئے کہ مختلف پارٹيوں کو جمع کريں اور وزير اعظم کے انتخاب کا اختيار انہيں ديں اور مخلوط حکومت بنائيں –انہوں نے موجودہ حالات ميں فوج کي مداخلت کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر فوج نے مداخلت کي تو خانہ جنگي شروع ہوجائے گي –...../169
30 جون 2013 - 19:30
News ID: 435812
مصر ميں مخالفين صدر مرسي کے استعفے پر مصر ہيں اور مرسي نے پير کے روز ايک انٹرويو ميں استعفا دينے سے انکار کرديا ہے مصر کے صدر محمد مرسي نے پير کے روز ايک انٹرويو ميں اعلان کيا ہے کہ وہ استعفي نہيں ديں گے - انہوں نے کہا کہ ان کے استعفے سے نظام کمزور ہوگا اور ملک ميں ہرج ومرج اور افراتفري پھيل جائے گي -