30 جون 2013 - 19:30
اسنوڈن کے انکشافات، يورپ امريکا کشيدگي

امريکا کي جاسوسي تنظيم سي آئي اے اور نيشنل سيکورٹي ايجنسي کے سابق ايجنٹ ايڈورڈ اسنوڈن کے انکشافات سے يورپ اور امريکا کے درميان کشيدگي پيدا ہوگئي ہے -

ابنا: دوسري جانب اکواڈور نے جنوبي امريکا کے ملکوں کي يونين اوناسور سے مطالبہ کيا ہے کہ جاسوسي کے تعلق واشنگٹن سے وضاحت طلب کي جائے -يہ انکشاف ہونے کے بعد کہ امريکا يورپي يونين کے دفاتر اور يورپي ملکوں کي بھي جاسوسي کرتا رہا ہے ، فرانس  کي گرين پارٹي    نے جو فرانس کي حکومت ميں شامل ہے ،  صدر فرانسوا اولينڈ سے مطالبہ کيا ہے کہ ايڈورڈ اسنوڈن کو فرانس ميں  سياسي پناہ دي جائے –گرين پارٹي نے کہا ہے کہ امريکا کا دعوي ہے کہ يہ کام اس نے دنيا کي حمايت ميں کيا ہے جبکہ حقيقت يہ ہے کہ وہ دنيا کے تمام ملکوں پر نظر رکھنا چاہتا ہے –    اسي کے ساتھ فرانسيسي  پارليمنٹ ميں،  فرانس امريکا دوستي گروپ کے صدر جين فرانکو کوپے نے کہا ہے کہ اگر يہ بات ثابت ہوگئ کہ امريکا نے فرانس کي بھي جاسوسي کي ہے تو فرانس امريکا دوستي سخت متاثر ہوگي –انہوں نے پير کے روز ايک بيان ميں کہا کہ ايسي حالت ميں کہ يورپ امريکا  تجارتي معاہدے کے لئے مذاکرات کا عمل جاري تھا ،  اسنوڈن کے انکشافات نے سب کے حيرت ميں ڈال ديا ہے کہ امريکا اپنے دوست ملکوں کي بھي جاسوسي کرتا رہا ہے - کوپے نے جو عوامي تحريک نامي يونين کے بھي صدر ہيں کہا کہ امريکا کي جانب سے يورپ کي اليکٹرونک جاسوسي کا انکشاف بہت افسوسناک ہے –فرانس کے ايک اور رکن پارليمنٹ ڈينيل کوہن بنڈٹ نے اسنوڈن کے انکشاف پر کہا کہ بعض حکومتيں سمجھتي ہيں کہ انہيں جو چاہيں کرنے کا حق حاصل ہے –جرمني کي حکومت نے بھي يورپي يونين کے ڈپلوميٹک دفاتر کي جاسوسي کے تعلق سے امريکا سے وضاحت طلب کي ہے –سوئزر لينڈ نے امريکا سے مطالبہ کيا ہے کہ جاسوسي کي سرگرميوں کے تمام پہلووں کي وضاحت کرے –سوئزرلينڈ کي حکومت نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے جنيوا ہيڈکواٹر  ميں يورپي يونين کے نمائندہ دفتر سميت، يورپي  يونين کي امريکا کي جانب سے جاسوسي کے سبھي پہلووں کي وضاحت ضروري  ہے –  امريکا نے يورپي ملکوں کے ردعمل پر کہا ہے کہ اس سلسلے ميں سفارتي ذرائع سے يورپي يونين کو جواب ديا جائے گا –فرانس پريس کے مطابق امريکا کي نيشنل سيکورٹي ايجنسي نے ايک بيان جاري کرکے اعلان کيا ہے کہ امريکي حکومت ماہرين کي مدد ليکر ، سفارتي طريقوں سے اس سلسلے ميں يورپي ملکوں کو مناسب جواب دے گي - اس بيان ميں کہا گيا ہے کہ امريکي حکومت يورپي يونين کے رکن ملکوں کے ساتھ اس بارے ميں مذاکرات کرے گي –دوسري جانب اکواڈور نے جنوبي امريکا کے ملکوں کي يونين اناسور سے مطالبہ کيا ہے کہ جاسوسي کے تعلق سے امريکا سے وضاحت طلب کي جائے –ہمارے نمائندے کے مطابق اکواڈور کے وزير خارجہ ريکارڈو پينٹو نے کہا ہے کہ امريکا  سے اس کي  اليکٹرونک جاسوسي کي کاروائيوں کے بارے ميں وضاجت طلب کرنا ضروري ہے -     امريکا کي جاسوسي کي کاروائيوں کا انکشاف کرنے والے  سي آئي اے اور نيشنل سيکورٹي ايجنسي کے سابق ايجنٹ ايڈروڈ اسنوڈن جو اکواڈور جانے کے لئے ہانگ کانگ سے ماسکو پہنچے تھے ، اب بھي ماسکو کے بين الاقوامي ہوائي اڈے کے ٹرانزٹ لاؤنج ميں موجو ہيں -......./169