26 جون 2013 - 19:30
بحرینی مظاہرین پر تشدد کی سخت مذمت

بحرین کے انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ خلیج فارس کے اس ملک پر بین الاقوامی توجہ مرکوز ہونے کے باوجود ملک میں قیدیوں پر تشدد کے واقعات میں غیر معمولی تیزی آ گئی ہے۔

ابنا:  لندن کے ہاؤس آف لارڈ میں منعقد ہونے والے ایک سیمینار میں متعدد بحرینی متاثرین نے اپنے اوپر اور بحرین کی جیلوں میں قید اپنے رشتےداروں پر ہونے والے تشدد کے واقعات بیان کیے۔بحرین کے سابق رکن پارلیمان جلال فیروز نے کہا کہ بحرینی سکیورٹی اہلکار قیدیوں کو بجلی کا کرنٹ لگتے ہیں،  ان کے خلیات خاص طور پر دماغ کے خلیات پر برقی مقناطیسی شعاعوں کا استعمال کر رہے ہیں۔ وہ آپ کے سامنے آپکی بیوی یا نوعمر بیٹی کو لاتے ہیں اور دھمکی دیتے ہیں کہ وہ ان کی عصمت دری کرنے جا رہے ہیں۔شرکاء نے بحرین کے قیدیوں پر ہو رہے مظالم کے تئیں مغربی ممالک کی خاموشی کی بھی مذمت کی۔بحرین کے ایک وکیل محمد تاجر نے کہا کہ بحرین میں مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر مغربی ممالک کی خاموشی سے حکومت کو اپنی غیر انسانی پالیسیوں کو جاری رکھنے کے لیے حوصلہ مل رہا ہے۔بحرین میں فروری 2011 کے وسط میں تحریک آزادی اس وقت شروع ہوئی جب بحرینی عوام نے تیونس اور مصر کے مقبول انقلابات سے متاثر ہو کر کہ جس کے باعث دونوں ممالک کے آمروں کا تختہ پلٹ گیا، بڑے پیمانے پر ملک میں آمریت کے خلاف مظاہرے شروع کر دیے۔بحرینی حکومت نے بلا فاصلہ پرامن مظاہرین کے خلاف سفاکانہ کارروائیوں کا آغاز کر دیا اور سعودی عرب کی زیر قیادت ہمسایہ ممالک سے فوجی امداد طلب کر لی۔اب تک درجنوں مظاہرین سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں شہید ہو چکے ہیں اور زخمی انقلابیوں کا علاج کرنے اور ان کی مدد کرنے کے الزام میں آل خلیفہ کے فوجیوں نے ڈاکٹروں اور نرسوں سمیت سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کر لیا ہے۔...../169