24 جون 2013 - 19:30
اسنوڈن کی سیاسی پناہ، امریکی انا کا مسلہ

ایکواڈور کے صدررافائل کورہ آ نے کہا ہے کہ وہ امریکی سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ اسنوڈن کی جانب سے سیاسی پناہ کیلئے دی جانے والی درخواست کا جائزہ لیں گے اور اس بارے میں کسی دباو میں آئے بغیر فیصلہ کریں گے۔

ابنا: اس سے قبل ایکواڈور کے وزیر خارجہ نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہ امریکی حکومت کے عتاب کا شکار سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ اسنوڈن نے ان کے ملک میں پناہ کی درخو است دی ہے کہا کہ امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کی دستاویزات اور اسناد کو برملا کرنے والے شخص کی حفاظت آزادی بیان کے زمرے میں آتی ہے۔ایڈورڈ اسنوڈن نے اخبارواشنگٹن پوسٹ اورگارڈین سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ امریکی خفیہ ایجنسی، لوگوں کی ذاتی ویڈیوز، بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات، تصاویر اور ای میلز تک حاصل کر تی ہے۔واضح رہے کہ امریکی وزارت دفاع کی جانب سے ایڈورڈ سنوڈن پر جو فردِ جرم عائد کی گئی ہےاُس کے تحت الزامات میں جاسوسی اور حکومتی دستاویزات کی چوری شامل ہے۔ ان الزامات کے ثابت ہونے پرانہیں دس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔اگر ایکواڈور نے ایڈورڈ اسنوڈن کو سیاسی پناہ دی تو اس سے امریکہ اور ایکواڈور کے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔ ایکوا ڈور  کو پہلے ہی ویکی لیکس کے بانی جولیان کو برطانیہ میں میں واقع اپنے سفارتخانے میں پناہ دئے جانے پر امریکہ کی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔امریکہ نے تمام ملکوں سے کہا ہے کہ وہ ایڈورڈ اسنوڈن کو پناہ نہ دے۔...../169