ابنا: پوليس نے مظاہرين کو منتشر کرنے کے لئے ايک بار پھر ان کے خلاف پاني کي توپوں کا استعمال کيا اور آنسو گيس کے گولے داغے-مظاہرين نے پوليس پر پتھراو کيا اور شربت کي خالي بوتليں اور ديگر اشيا پھينکي- پوليس نے متعدد مظاہرين کو گرفتار بھي کيا ہے-ترکي کے نائب وزيراعظم نے پير کے روز دھمکي دي تھي کہ اگر ضروري ہوا تو مظاہروں کي سرکوبي کے لئے فوج سے بھي کام ليا جائے گا- مظاہرين کي سرکوبي کے لئے فوج سے کام لينے کا کوئي فيصلہ ترکي کي تاريخ ميں بہت بڑا واقعہ ہوگا- ترکي کے وزيراعظم رجب طيب اردوغان نے چار عشروں سے حکومت کا تختہ الٹنے والي فوج کو قابو ميں کرنے کے لئے ملک ميں بعض جمہوري اصلاحات پر عملدرآمد کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے-ترکي کے شہر استنبول ميں جو گزشتہ دس برس کے دوران اردوغان حکومت کے لئے اہم چيلنجوں کا مرکز ہے، منگل کي صبح سے ايک بار پھر خاموش مظاہروں کي زد پر ہے- خاموش مظاہرے ميں شريک لوگ پانچ گھنٹے تک استنبول کے تقسيم اسکوائر پر کھڑے رہے-اس کے تھوڑے دير بعد سيکڑوں کي تعداد ميں لوگوں نے اتاترک کلچرل سينٹر کے سامنے بھي اسي طرح کے خاموش مظاہرے کا آغاز کيا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مظاہرين کي تعداد ميں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے-......./169
18 جون 2013 - 19:30
News ID: 431301
ترکي کے دارالحکومت انقرہ ميں پوليس اور مظاہرين کے درميان جھڑپوں کي خبريں موصول ہوئي ہيں- پير اور منگل کي درمياني رات مظاہرين کي ايک بڑي تعداد نے انقرہ کي سڑکوں پر آکے دھرنا ديا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے-