ابنا: بان کی مون نے جمعہ کو کہا کہ طرفین میں کسی کو بھی ہتھیاروں کی فراہمی سے، اس ملک کی موجودہ صورت حال کے حل میں مدد نہیں ملے گی.... اس تنازعہ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے .... فوجی مداخلت اور اسلحے کی فراہمی سے یہ عرب ملک مزید غیر مستحکم ہوگا۔اقوام متحدہ کے سربراہ نے یہ بیان شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف لڑ رہے دہشت گردوں کو نئے ہتھیار فراہم کرنے کے امریکی صدر اوباما کے فیصلے کے بارے میں کیے گئے ایک سوال کے جواب میں دیا ہے۔ 13 جون کو نیویارک ٹائمز کی ایک رپوٹ کے مطابق، امریکی صدر براک اوباما نے شام میں عسکریت پسندوں کو اینٹی ٹینک میزائلوں سمیت مزید گولہ بارود اور سنگین ہتھیاروں کی فراہمی کا جاسوسی ایجنسی سی آئی اے کو حکم دیا ہے۔ بان کی مون نے مزید کہا کہ وہ شام کی حکومت کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں امریکی الزامات کی تصدیق نہیں کر سکتے، انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ماہرین اس کیس سے متعلق معلومات اور مواد جمع کرنے میں مصروف ہیں۔ غور طلب ہے کہ 13 جون کو امریکی قومی سلامتی کے نائب مشیر بین روڈس نے دعوی کیا تھا کہ شامی حکومت نےغیر ملکی حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کے خلاف چھوٹے پیمانے پر سرین سمیت کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔دمشق نے سختی کے ساتھ اس طرح کے دعووں کو مسترد کر دیا ہے۔ اور کہا ہے کہ دہشت گردوں نے 19 مارچ کو حلب صوبے کے شمال مغربی علاقے خان الاصل سمیت کہ جہاں دو درجن سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے کئی مواقع پر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔......./169
14 جون 2013 - 19:30
News ID: 429936
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ شام کے تنازعہ میں طرفین میں سے کسی کو بھی اسلحے کی فراہمی تنازعہ کے حل میں مددگار ثابت نہیں ہو گی اور اس قدم سے صرف اس عرب ملک میں تشدد میں اضافہ ہوگا۔