ابنا: پاکستان میں آئندہ سال کا بجٹ پیش کردیا گیا2013-14ء کے اس وفاقی بجٹ میں وزراء کیلئے مختص صوابدیدی گرانٹ ختم کر دی گئی ہے اور وزیر اعظم آفس کے اخراجات میں 45فیصد کمی کر دی گئی ہے جبکہ سیکرٹ سروسز اخراجات ختم کردیئے گئے ہیں جبکہ 5 لاکھ روپے تک قرض حسنہ دینے اور کم ترقی یافتہ علاقوں کے طلبا کیلئے فیس ادائیگی اسکیم کی تجویزبھی دی گئی ہے ۔ قومی اسمبلی میں بجٹ 2013-14ء پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ بجلی کے بلوں کی عدم ادائیگی کے باعث بجلی کی فراہمی متاثر ہورہی ہے ۔ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ 5سال میں ملکی قرضوں میں 250فیصد اضافہ ہوا، قرضوں کا بوجھ سوا14 (14286) ارب روپے ہوگیا، مہنگائی کی اوسط شرح گزشتہ 5سالوں میں 13فیصد رہی، ڈالر کی قدر 60سے بڑھ کر 100تک پہنچ گئی، پانچ سال میں جی ڈی پی 3فیصد کم رہا، پانچ سال میں شرح نمو صرف ایک فیصد بڑھی، آبادی میں اضافے کی شرح 2فیصد رہی، لوڈ شیڈنگ اور سرکلر ڈیٹ جو کہ 500ارب روپے ہے ۔اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ سرکاری ملازمین کی پنشن میں 10 فیصداضافے اور کم سے کم پنشن 3 ہزارسے بڑھاکر5ہزارکرنے کی تجویز ہے، ۔ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ترقیاتی اخراجات 340ارب سے زیادہ ہے اگر اسے صوبائی اخراجات سے ملایا جائے تو یہ اخراجات 1100 ارب سے زیادہ ہوں گے جس سے ترقی کے ساتھ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
11 جون 2013 - 19:30
News ID: 429131
پاکستان میں آئندہ سال کا بجٹ پیش کردیا گیا