ابنا: جمعہ کو آئی اے ای اے میں ایران کے سفیر علی اصغر سلطانیہ نے اس بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد میں کہ جسے دسمبر 2012 میں فنلینڈ کے دارالحکومت ہیلسنکی میں منعقد ہونا تھا امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے تعطل پیدا کرنے کی کوششوں کی مذمت کی ہے۔سلطانیہ نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے اس اہم کانفرنس کو التوا میں ڈالنے کا یکطرفہ فیصلہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی کے لئے ایک سنگین دھچکا ہے اور 2010 میں نیویارک میں منعقد ہوئے این پی ٹی کے اجلاس میں لیے گئے اہم فیصلے کو نظر انداز کرنا ہے۔23 نومبر، 2012 میں اس وقت کی امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے اسرائیل کو بھیجے گئے واضح پیغام میں کہا تھا کہ واشنگٹن کسی بھی ایسی کانفرنس کی حمایت نہیں کرے گا کہ جس کے باعث اسرائیل خطے میں کسی دباؤ میں آجائے یا الگ تھلگ پڑ جائے۔مشرق وسطی میں تنہا صیہونی حکومت کے پاس جوہری ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ ہے۔ 1958 میں صیہونی حکومت نے نیجو ریگستان میں ڈیمونہ پلوٹونیم اور یورینیم کی افزودگی کے منصوبے پر خفیہ طور سے کام کرنا شروع کیا اور امریکہ و یورپی ممالک کے تعاون سے جوہری ہتھیار تیار کر لیے۔ صیہونی حکومت کے جوہری ہتھیار خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔سابق امریکی صدر جمی کارٹر نے اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیاروں کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ صیہونی حکومت کے پاس 200 سے 300 ایٹمی وار ہیڈ ہیں۔......./169
7 جون 2013 - 19:30
News ID: 427504
جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) میں ایران کے نمایندے نے مشرق وسطی کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک خطہ بنانے کی تجویز پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد میں رخنہ ڈالنے کے ليے امریکہ کی مذمت کی ہے۔