ابنا: حضرت علی علیہ السلام کی ولادت کے سلسلے میں ہندوستان کی مشہور و معروف یونیورسٹی،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس کے دوران ہندوستان میں ایران کے سیفر غلام رضا انصاری نے اعلیٰ شخصیتوں کے بیچ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ناخواندگی اور صیہونزم اسلامی معاشرے کے دو بڑے دشمن ہیں۔ اور صیہونی سازشوں کے تحت مسلم ممالک پاکستان، افغانستان، یمن اور شام کے سیاسی اور اقتصادی ڈھانچے کو تباہ کیا جارہا ہے۔
علی گڑھ یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اُن کا نقطۂ نظر کافی عظیم تھا۔ وہ ایک سنی مسلمان تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے شیعہ دینیات کے مطالعہ کیلئے انتظامات کئے۔ ایرانی سفیر نے کہا کہ سرسید احمد خان نے دونوں فرقوں کے ساتھ مساوی سلوک کر کے مسلمانوں کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔
انصاری نے کہا کہ ایران، ہندوستان اور افغانستان کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تہذیبی رشتہ ہے۔
اس موقع پر ہندوستان میں آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے نمائندے اور نامور عالم دین حجۃ الاسلام شیخ مہدی مھدوی پور نے کہا حضرت علی علیہ السلام نے ایک روحانی زندگی کی قیادت کی اور ہمیشہ اللہ کی خوشنودی کیلئے کام کیا۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں علی سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ حضرت علی علیہ السلام کے مختلف پہلوؤں پر کتابیں شائع کریں۔
.......
/169