15 مئی 2013 - 19:30
عراق کے خلاف ترکي کے غير قانوني اقدامات

کرد گروہ پي کے کے کے ساتھ ترک حکومت کے حاليہ سمجھوتے پر جس ميں طے پايا ہے کہ يہ گروہ ترکي کي سرزمين سے نکل کرعراق کي سرحد کے قريب واقع پہاڑيوں پر چلا جائے عراقي حکومت اور پارليمنٹ نے شديد ردعمل ظاہر کيا ہے -

ابنا: عراقي حکومت نے عراق کي سرزمين ميں پي کے کے کي موجودگي پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہےکہ وہ اس بات کي سلامتي کونسل ميں شکايت کرے گي-عراقي حکومت نے اپني وزارت خارجہ سے کہہ ديا ہے کہ وہ عراق کے احتجاج سے ترکي کو باخبر کردے ساتھ ہي عراقي حکومت نے يہ بھي کہا ہے کہ وہ عراق کے اندر مسلح يا غير مسلح افراد کے غير قانوني داخلے کي مخالف ہے –عراقي حکومت کي کابينہ نے بھي ايک بيان جاري کرکے ترکي سے نکل کر عراق ميں پي کے کے کے پناہ لينے کے فيصلے کو اپني ارضي سالميت اور اقتدار اعلي کے منافي قرارديا ہے اور کہا ہے کہ اس اقدام سے عراق اور ترکي کے اچھے ہمسائيگي کے اصول پر مبني تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا  ہے اور دونوں ملکوں کے مفادات بھي خطرے ميں  پڑ سکتے ہيں -عراقي حکومت کي کابينہ کے بيان ميں کہا گيا ہے کہ بغداد سلامت کونسل سے شکايت کرے گا کہ وہ عالمي امن کے تعلق سے اپني ذمہ دارياں پوري کرے اور عراق کي ارضي سالميت اور اقتدار اعلي کي خلاف ورزي کرنے والوں پر روک لگائے -عراقي حکومت نے زور دے کر کہا ہے کہ وہ اپني خود مختاري اور اقتدار اعلي کا دفاع کرنے کي توانائي رکھتي ہے اور بين الاقوامي قوانين کے دائرے ميں رہتے ہوئے وہ ايسا کرنے کا حق محفوظ رکھتي ہے.

.....

/169