ابنا: میانمار میں حکومت اور فوج کے درمیان کل اتوار کے رورز گذشتہ سمجھوتے پر عمل درآمد اور دوطرفہ تعاون کے جاری رہنے کے بارے میں نظارت نیز مشکلات کے حل کے مقصد سے ایک سمجھوتے پر دستخط ہوئے۔ صوبہ شان کے فوجی کمانڈر نے اس نکتہ کی یاد دھانی کرائی کہ ان کے کمانڈ کے تحت کام کرنے والے فوجی حکومت میانمار یا کسی اور گروہ کے ساتھ جنگ کرنا نہیں چاہتے ہیں ۔ لیکن حکومت میانمار بھی نہیں چاہتی کہ وہ ایک گروہ کے ساتھ جنگ کو روک کر کسی اور گروہ کے ساتھ جنگ جاری رکھنے کو اپنے ایجنڈے میں شامل کرے ۔صوبہ شان کے فوجی کمانڈر کی نظر میں قومی مصالحت کے لئے دوطرفہ قومی ارادے کی ضرورت ہے ۔ بنابر ایں اگر حکومت قومی مصالحت چاہتی ہے تو اسے چاہئیے کہ وہ تمام قومی اور نسلی گروہوں کے ساتھ جنگ بند کرے ۔ ایسا لگتا ہے کہ صوبہ شان کے فوجی کمانڈ حکومت میانمار کے حکام کو سخت اور مشکل مسائل کے سامنے قرار دینا چاہتے ہیں اس لئے کہ صوبہ شان کے علاوہ کارن اور کاچین صوبے کے رہنے والےاور سب سے اہم مسلمان بھی یہ چاہتے ہیں کہ میانمار کی مرکزی حکومت کے ساتھ ایک پائدار اور اصولی سمجھوتہ عمل میں آئے ۔۔ حکومت میانمار کے لئے مختلف قومی اور نسلی گروہوں کے ساتھ سمجھوتہ کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ شاید یہ کہا جاسکتا ہے کہ میانمار میں جغرافیائی لحاظ سے کئی خود مختار ریاستوں کی تشکیل مستقبل میں بظاہر غیر فوجی حکومت کے لئے مشکل ساز بن سکتی ہے ۔ چنانچہ اس نکتہ کی طرف بھی اشارہ کرنا چاہئیے کہ میانمار کی موجودہ حکومت اور سرفہرست اس ملک کے صدر تھین سین کے لئےقومی مصالحت اور آشتی کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔اس لئے کہ حکومت میانمار کو اس وقت مسلمانوں کے حقوق کو پامال کرنے کی وجہ سے بہت سے ممالک ،سیاسی اور خبری حلقوں کی تنقیدوں کا سامنا ہے ۔ادھر انسانی حقوق کمیشن نےبھی مسلمانوں کے خلاف تشدد آمیز اقدامات کو درست قرار نہیں دیا ہے ،حتی ترکی کے ایک پارلما نی نمایندے نے بھی مسلمانوں کو سر کوب کرنے کے خلاف حکومت اور انتہاپسند بدھسٹوں کے تشدد آمیز اقدامات کو جرمن نازیوں کے اقدامات سے تشیبہ دی ہے ۔ بنابر ایں اس بات کا قوی امکان پایاجاتا ہے کہ میانمار کی حکومت قومی امن وآشتی کے موضوع کو اپنے ایجنڈے میں قرار دینے پر مجبور ہے تاکہ وہ اس طرح اپنے اوپر ہونے والی تنقیدوں کو کم کرکے دوسرے گروہوں کے ساتھ مذاکرات کا باب کھل سکے ۔ علاقائی ممالک کی تنظیم آ ،سہ، آن کہ خود میانمار بھی اس تنظیم کا رکن ہے ، میانمار میں رونما ہونے والے واقعات کو نظر انداز نہیں کرسکتی اور تنظیم کے مطابق میانمار پر بھی کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ۔ مسلم ہے کہ میانمار میں سیاسی اور شہری حقوق کی آزادی جیسے جیسے بڑھتی جائےگی اس ملک میں مسلمان بھی راحت کی سانس لے سکیں گے ۔ صوبہ شان کے گروہ کے ساتھ حکومت کے سمجھوتے پر دستخط کو مشکلات کے حل کے بارے میں کسی حد تک مثبت قرار دیا جاسکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
12 مئی 2013 - 19:30
News ID: 418799
صوبہ شان کے فوجی کمانڈر کی نظر میں قومی مصالحت کے لئے دوطرفہ قومی ارادے کی ضرورت ہے ۔ بنابر ایں اگر حکومت قومی مصالحت چاہتی ہے تو اسے چاہئیے کہ وہ تمام قومی اور نسلی گروہوں کے ساتھ جنگ بند کرے ۔