7 مئی 2013 - 19:30

شام کے صدر بشار الاسد نے اسرائیلی فضائیہ کی جانب سے دمشق کے اطراف میں تین مقامات پر ہونے والے جارحانہ حملوں کے بعد اپنے پہلے ردعمل میں کہا ہے کہ ان کا ملک اسرائیلی جارحیت کا جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے شام کے صدر بشار الاسد نے پہلی مرتبہ اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ دمشق اسرائیل کے جارحانہ اقدامات کا جواب دینے کی پوری قدرت اور طاقت رکھتا ہے۔

ابنا: شامی صدر کا کہنا تھا کہ اسرائیل شام میں سرگرم عمل دہشتگردوں کی حمایت اور پشتیبانی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی موجودہ جارحیت نے غاصب اسرائیل، خطے کے چند ممالک اور مغربی طاقتوں کے گٹھ جوڑ کو اور زیادہ عیاں کر دیا ہے۔ بشار الاسد کا مزید کہنا تھا کہ شامی عوام اور انکی ہر دلعزیز فوجیں اس بات پر قادر ہیں کہ اس اسرائیلی مہم جوئی کا بھرپور جواب دیں جو کہ شام میں ہر روز ہونے والی دہشت گردی کا حصہ ہیں۔
 ادھرعالمی رائے عامہ کی جانب سے شام پر صیہونی حکومت کے حملے کی مذمت کا سلسلہ بدستور جاری ہے 
غیر وابستہ ممالک کی تنظیم نام نےاپنے ایک بیان میں اسرائیل کی جانب سے اس مہم جوئی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کو مخاطب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اسرائیل کی اس جارحیت اور مہم جوئی کا نوٹس لے اور اسرائیل کے خلاف اقدام کرے۔ لیکن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل  جوعالمی امن کے قیام کی ذمےدار ہے اس نےشام پر اسرائیل کے فضائی اور میزائیل حملوں کو متعدد  دن گزرنے کے باوجود ابھی تک اپنا رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے نہ صرف صیہونی حکومت کے حملوں کی مذمت نہیں کی ہے بلکہ ان حملوں کے منفی نتائج کے بارے میں اپنی تشویش تک ظاہر نہیں کی ہے۔ دریں اثناء اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بھی صیہونی حکومت کی مذمت کرنے سے گریز کیا ہے اور خطے میں کشیدگي میں شدت پیدا ہونے کے بارے میں تشویش کا اظہار کرنے پر اکتفا کیا ہے۔
صیہونی حکومت کی اس جارحیت کے بعد رائےعامہ کو توقع تھی کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے اس جارح اور ناجائز حکومت کے خلاف ٹھوس قدم اٹھائے گی۔ لیکن اس ادارے نے ، کہ جس پر یورپی ممالک کا تسلط ہے ، عملی طور پر صیہونی حکومت کی جارحیت کے بارے میں کسی طرح کا موقف اختیار نہیں کیا ہے۔ اور اس نے حسب سابق جو رویہ اختیار کیا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔ افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ عرب لیگ اور او آئی سی جیسے اداروں نے بھی اس پر چپ سادھ رکھی ہے
 سامعین آئيے سنتے ہیں کنیڈا ميں مقیم عالمی امور کے ماہر ڈاکٹر ظفربنگش اس موضوع پر کیا اظہار خیال کر رہے ہیں  
حقیقیت یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے مختلف اداروں خصوصا سلامتی کونسل نیز عرب لیگ اور او آئی سی جیسے اداورں کی جانب سے صیہونی حکومت کے خلاف ٹھوس قدم نہ اٹھائے جانےکی وجہ سےہی یہ  غاصب حکومت عالمی قوانین اور دوسرے ممالک کے اقتدار اعلی کی خلاف ورزی کے سلسلے میں بہت  زیادہ گستاخ اور جری ہوئي ہے۔

.....

/169