اہلبیت (ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ نسیم نیوز ایجنسی کے شام میں موجود نامہ نگار نے جناب حجر بن عدی کے پیکر مقدس کی طرف منسوب کی گئی تصویر کو جسے سوشل نٹ ورک پر شائع کیا گیا تھا جھوٹا قرار دے کر کہا ہے کہ یہ تصویر شام میں مسلح افراد میں سے کسی ایک کی ہے جو شامی فوج کے ساتھ جھڑپ میں مارا گیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ شام میں حکومت مخالف گروہ کی سائٹ ’’ الغوطۃ الشرقیۃ‘‘ نے اس تصویر کو انٹر نٹ پر دے کر یہ دعویٰ کیا تھا کہ یہ تصویر صحابی رسول جناب حجر بن عدی کے جسد کی ہے جسے ۲ مئی کو تکفیری دھشتگردوں نے ان کی قبر کھود کر نکال تھا۔علاوہ از ایں کسی موثق سائٹ نے اس بات کی تائید نہیں کی کہ یہ تصویر جناب حجر بن عدی کے پیکر مقدس کی ہے۔تیسری دلیل جو اس خبر کے اعتبار کو مزید کم کر دیتی ہے وہ یہ ہے کہ تاریخی دلائل اور شواہد سے یہ ثابت ہے کہ جناب حجر اور ان کے ساتھیوں کے سروں کو قلم کرکے معاویہ کے دربار میں بھیج دیا گیا تھا۔ لہذا اگر سر کو بعد میں بدن کے ساتھ بھی دفن کیا گیا ہو تو تب بھی سر کا بدن کے ساتھ متصل ہونا ناممکن ہے جبکہ تصویر میں سر بدن سے متصل نظر آ رہا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
6 مئی 2013 - 19:30
News ID: 416828
سوشل نیٹ ورک پر حجر بن عدی کی طرف منسوب کر کے شائع کی گئی تصویر در حقیقت شام میں مسلح افراد میں سے کسی ایک ہے جو شامی فوج کے ساتھ جھڑپ میں مارا گیا ہے.