ابنا: روشنیوں کا شہر کراچی آگ و خون میں جل رہا ہے لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی کارکردگی دکھانے کی غرض سے ناجانے کن افراد کو پکڑ کر ان کے قبضے سے بڑی تعداد میں اسلحہ و دھماکا خیزمواد برآمد کرنے میں مصروف ہیں۔ پولیس، رینجرز اور سی آئی ڈی کے تمام ترآپریشن ناکام ثابت ہو رہے ہیں، یہ اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ 15روز کے دوران پولیس و رینجرز نے شہر کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے مجموعی طور پر 536 افراد کوگرفتارکیا۔ لیکن انہی 15روز کے دوران دہشت گردوں نے بے خوف وخطر اور انتہائی اطمینان کے ساتھ آسانی سے8 بم دھماکے کیے۔ جن میں پیپلزپارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں اور ہمدردوں سمیت 29 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ سیکڑوں زخمی اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں، دوسری جانب اسی عرصے میں فائرنگ و پرتشدد واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔تفصیلات کے مطابق 23 اپریل کو پیپلز چورنگی پر دھماکے میں 3 افراد ہلاک اور 22 زخمی ہوئے، 25 اپریل کو نصرت بھٹو کالونی میں متحدہ قومی موومنٹ کے الیکشن آفس کے باہر دھماکے میں 7 افراد ہلاک اور 9 زخمی ہوئے۔ 26 اپریل کو مومن آباد میں عوامی نیشنل پارٹی کے الیکشن آفس کے باہر بم دھماکے میں 11 افراد ہلاک اور 50 زخمی ہوئے۔28 اپریل کو قصبہ کالونی میں چند منٹ کے وقفے سے ہونے والے 2 دھماکوں میں ایک شخص ہلاک اور 45 افراد زخمی ہوئے، 28 اپریل کو ہی کلاکوٹ میں پیپلزپارٹی کے تحت منعقدہ کارنرمیٹنگ میں دھماکے سے 4 افراد ہلاک اور 30 زخمی ہوئے۔2 مئی کو برنس روڈ پر متحدہ قومی موومنٹ کے مرکزی الیکشن آفس سے متصل مسجد میں دھماکا ہوا جس میں 9 افراد زخمی ہوئے۔ 4 مئی کو عزیز آباد میں متحدہ قومی موومنٹ کے انتخابی دفتر کے قریب یکے بعد دیگرے 2 بم دھماکوں میں 3 افراد ہلاک اور 35 زخمی ہوئے۔مذکورہ بم دھماکوں میں سے ایک بھی خود کش دھماکا نہیں تھا، تمام دھماکے پلانٹڈ تھے لیکن پولیس و رینجرز کی’’عقابی نگاہیں‘‘ ان دہشت گردوں کو بم نصب کرتے ہوئے یا بارود سے بھری موٹرسائیکل کھڑی کرتے ہوئے نہیں دیکھ سکیں جس کا خمیازہ معصوم شہریوں کو اپنی جان گنوانے اوراملاک کے نقصان کے طور پر بھگتنا پڑا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا انٹیلی جنس نظام بری طرح ناکام دکھائی دے رہا ہے۔ پولیس و رینجرز کے علاوہ سی آئی ڈی حکام بھی اپنی کارکردگی دکھانے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ سی آئی ڈی نے زیادہ تر کالعدم تحریک طالبان کے کسی نہ کسی گروپ سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد یا مقامی کمانڈر کی ہی گرفتاری ظاہر کی اور ان کے قبضے سے لیا گیا اسلحہ، دھماکا خیز مواد، ڈیٹونیٹر، ٹینس بال بم اور نٹ بولٹ سمیت بم بنانے میں استعمال کیا جانے والا سامان بڑی مقدار میں دکھایا گیا۔ ایسے مواقعوں پر پریس کانفرنس کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے جب اتنی بڑی تعداد میں کالعدم تنظیم کے دہشت گرد اور کمانڈر گرفتار ہو رہے ہیں تو پھر کیوں شہر میں دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں کسی طور پر بھی کمی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔ اس سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مصنوعی کارروائیوں میں ہی مصروف ہیں، اصل ملزمان یا تو ان کی نظروں سے اوجھل ہیں یا وہ ان پر ہاتھ ڈالنا ہی نہیں چاہتے۔اعداد و شمار کے مطابق پولیس و رینجرز نے 20 اپریل کو 98 ملزمان، 25 اپریل کو سی آئی ڈی نے 4 ملزمان، 26 اپریل کو رینجرز نے 14 افراد، 27 اپریل کو پولیس و رینجرز نے 37 ملزمان، 29 اپریل کو 26 جبکہ سی آئی ڈی نے 3 ملزمان، 30 اپریل کو پولیس و رینجرز نے 147، یکم مئی کو پولیس نے 137 ملزمان، 2 مئی کو پولیس و رینجرز نے 35 ملزمان، 3 مئی کو پولیس و رینجرز نے 19 افراد جبکہ سی آئی ڈی نے 5 ملزمان، 5 مئی کو پولیس و رینجرز نے مشرکہ کارروائی کرتے ہوئے ڈیفنس سے 11 ملزمان گرفتار کیے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تمام کارروائیوں میں دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ملزمان کے قبضے سے بڑی تعداد میں کلاشنکوف ، رپیٹر، رائفلیں، پستول ، ریوالور، ہزاروں کارتوس و رائونڈ ، دھماکا خیز مواد، نٹ بولٹ ، منشیات اور دیگر سامان برآمد کیا ہے۔...../169
5 مئی 2013 - 19:30
News ID: 416453
مذکورہ بم دھماکوں میں سے ایک بھی خود کش دھماکا نہیں تھا، تمام دھماکے پلانٹڈ تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے جب اتنی بڑی تعداد میں کالعدم تنظیم کے دہشت گرد اور کمانڈر گرفتار ہو رہے ہیں تو پھر کیوں شہر میں دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں کسی طور پر بھی کمی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔