ابنا: اين پي ٹي کا جائزہ اجلاس جنيوا ميں ايک بيان جاري کرکے ختم ہوگيا ہے جس ميں دنيا بھر ميں ايٹمي اسلحے کي موجودگي پر تشويش کا اظہار کيا گيا ہے- اين پي ٹي معاہدہ انيس سو ستر ميں تيار ہوا اور اس کا مقصد دنيا ميں ايٹمي ہتھياروں کي تياري کو روکنا تھا ليکن اب بھي بہت سے ممالک ايٹمي ہتھياروں کو ختم کرنے کے لئےتيارنہيں ہيں-اين پي ٹي جائزہ اجلاس سے ايران کے نمائندے علي اصغر سلطانيہ نے بھي کيا-بعدازاں صحافيوں سے بات چيت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اجلاس کے دوران ايمٹي ہتھيار رکھنے والے ملکوں پر کڑي نکتہ چيني کي گئي-اجلاس ميں اسرائيل کے ايٹمي ہتھياروں کا معاملہ بھي سرفہرست رہا-اجلاس کے شرکا نے امريکہ کي جانب سے ايٹمي ہتھياروں ميں کمي کے وعدے پر عملدرآمد نہ کرنے کي بابت کڑي نکتہ چيني کي-اين پي ٹي جائزہ اجلاس کي سفارشات پر عملدرامد نہ کيا جانا ايٹمي تخفيف اسلحہ کے راستے ميں سب سے بڑي رکاوٹ شمار ہوتا ہے-دنيا کے ايک سو نوے ممالک نے اين پي ٹي معاہدے پر دستخط کئے ہيں، اسرائيل ، ہندوستان اور پاکستان ايسے ايٹمي ممالک ہيں جنہوں نے تاحال اس معاہدے ميں شموليت اختيار نہيں کي ہے-
.......
/169