ابنا: گزشتہ دنوں ليبيا ميں مسلح افراد نے حملہ کرکے ، خزانہ، داخلہ اور خارجہ امور کے وزارتخانوں کا محاصرہ کرليا-سرکاري اداروں اور وزارتخانوں کو سابق ڈکٹيٹر حکومت کي باقيات سے پاک کرنا ان افراد کے اہم مطالبات ميں شامل ہے - رپورٹوں ميں بتايا گيا ہے کہ مذکورہ وزارتخانوں کے محاصرے کے ساتھ ہي ليبيا کے عوام نے بھي وزارت خارجہ کے سامنے مظاہرہ کرکے سابق آمر حکومت سے وابستہ عناصر کو نکالے جانے کا مطالبہ کيا -وزارتخانوں کا محاصرہ کرنے والوں اور مظاہرين کا مطالبہ ہے کہ ان تمام عناصر کي سياسي سرگرميوں پر پابندي کا قانون پاس کيا جائے جو ليبيا کو برباد کرنے اور عوام کے قتل عام ميں ملوث رہے ہيں –سياسي امور کے ماہرين کا کہنا ہے کہ ليبيا کے سرکاري اداروں ميں درمياني سطح پر سابق آمر حکومت کي باقيات کا نفوذ اس قانون کي منظوري اور نفاذ ميں سب سے بڑي رکاوٹ ہے –ليکن اسي کے ساتھ بعض تجزيہ نگاروں کا يہ بھي کہنا ہے کہ ليبيا ميں اس وقت جو کچھ ہورہا ہے اس کا تعلق موجودہ حکام، قبائلي سرداروں اور انقلابيوں کے درميان جاري اقتدار کي جنگ سے ہے –ليبيا کے بااثر قبائل جو مسلح بھي ہيں، ملک پر حکمفرما سياسي بے ثباتي سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تشدد اور بدامني کو ہوادے کر اور سرکاي عہديداروں کو ڈرا دھمکا کے اپنے مطالبات پورے کروانا چاہتے ہيں –دوسري جانب ليبيا ميں عوامي کميٹياں اب بھي نيم فوجي گروہوں کے اختيار ميں ہيں اور يہ گروہ وزارتخانوں کا محاصرہ کرکے موجودہ حکومت پر اپنے مطالبات کے لئے دباؤ بڑھانا چاہتا ہے - ايسا لگتا ہے کہ يہ گروہ حکام کو يہ پيغام دينا چاہتے ہيں کہ وہ موجودہ عبوري حکومت کا مقابلہ کرسکتے ہيں – ليکن موجودہ صورتحال چاہے سابق آمر حکومت کي باقيات کے نفوذ کا نتيجہ ہو يا اقتدار کي جنگ ہو ، اس ميں دورائے نہيں کہ ان دنوں ليبيا ميں جو کچھ ہورہا ہے، اس ميں امور مملکت چلانے کے لئے منظم قوانين کے فقدان کا بھي بڑا ہاتھ ہے......../169
30 اپریل 2013 - 19:30
News ID: 414831
ليبيا ميں چند وزارتخانوں پر مسلح افراد کے حملے اور محاصرے کے بعد ملک ميں کشيدگي بڑھ گئي ہے -